پاکستان میں ہائی آکٹین ایندھن کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر تک اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر حکومت کو کھری کھری سنائیں، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ بھی ایکس پر ہی جواب دینے آ گئے.
سینئر صحافی مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ایکس پر ا یک پوسٹ میں کہا کہ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ امیروں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں کتنی لگژری سرکاری گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں اور ان پر کتنا مفت ایندھن خرچ کیا جا رہا ہے۔ عوام پہلے اپنی محنت کی کمائی سے حکومتی شخصیات کے لیے مہنگی گاڑیاں خریدتے ہیں اور پھر انہی گاڑیوں کے ایندھن اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو ملک بھر میں مفت ایندھن کی سہولت ختم کی جائے، ورنہ عوام کو قربانی کا درس نہ دیا جائے۔مفت ایندھن سرکاری سطح پر ختم کریں گے تو تب ہی ہم یقین کریں گے کہ آپ کچھ اچھا کر رہے ہیں۔ بصورت دیگر پیچھے بیٹھیں اور خاموش رہیں۔ اندازہ لگائیں کہ پاکستان میں کتنی سرکاری کاریں استعمال ہو رہی ہیں اور انہیں مفت ایندھن کی مقدار دی جا رہی ہے؟ پھر ہمیں کہو کہ قربانی دو
دوسری جانب وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر مبشر لقمان کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کیے، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند کیں اور ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی لائی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو جو ریلیف دیا گیا وہ انہی بچتوں اور کفایت شعاری کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کا عام شہری پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ لگژری گاڑیوں کے مالکان مشکل حالات میں اضافی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
