لاہور کے مقامی ہوٹل میں سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی تقریبِ رونمائی ہوئی، تقریب سے محمد سعید مہدی،ولید اقبال،پیپلز پارٹی کے رہنما ،سینئر سیاستدان،ممتاز وکیل اعتزاز احسن،سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی،سینئر صحافی سہیل وڑائچ ،اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب و دیگر نے خطاب کیا،
محمد سعید مہدی کی کتاب دی آئی وٹنس کی تقریبِ رونمائی میں سیاست دانوں، بیورو کریٹس ، صحافیوں ، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی ،تقریب کے دوران لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے افتتاحی کلمات میں شرکاء کو خوش آمدید کہا، محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس کتاب میں میں نے اپنے الفاظ میں زندہ تاریخ ریکارڈ کی ہے، جو حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی دہائیوں کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔ میری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ بات جو ہر کوئی کہنے سے ڈرتا ہے آپ اسے لکھیں۔بحیثیت سول سرونٹ میں نے اکثر عظیم اور یہاں تک کہ خوفناک واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ،میں نے اپنی بساط کے مطابق حقائق کو ویسے ہی بیان کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے جیسا میں نے دیکھا ،یہ یادداشت تحقیقاتی کے بجائے بیانیہ ہے، جو ذاتی تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تشریح تاریخ دانوں پر چھوڑتی ہے۔ ان کے کیریئر نے انہیں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم لمحات میں جگہ دی۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے طور پرانہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے آخری مرحلے کا مشاہدہ کیا اور پھانسی سے قبل ان سے ملنے والے آخری اہلکار تھے۔ لاہور کے کمشنر کے طور پرانہوں نے 1986 میں جلاوطنی سے واپسی پر بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا، بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پرانہوں نے 1999 کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کے بعد دو سال قید میں گزارے۔
محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں اپنی زندگی کے واقعات سنائے اور کہا کہ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اڈیالہ جیل کی تعمیر عمل میں آئی۔ اس وقت کمشنر راولپنڈی تھا ایک روز جنرل ضیاء الحق نے مجھے طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اس جیل میں کون کون سی کلاسز تعمیر کی گئی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ بی اور سی کلاس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے مزاق میں کہا کہ اس میں اے کلاس بھی بنا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی اس جیل میں جانا پڑ جائے۔ اڈیالہ جیل میں پندرہ کمروں پر مشتمل اے کلاس بھی تعمیر کر دی گئی۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ کئی برس بعد، جنرل پرویز مشرف کے دور میں مجھے گرفتار کیا گیا اور اسی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ اس موقع پر وہاں ان کے نام کی وہ تختی موجود تھی جو سنگِ بنیاد کے حوالے سے نصب کی گئی تھی۔ میں نے جیلر سے کہا کہ کم از کم اس تختی کی کچھ لاج رکھ لی جائے۔ دو دن بعد جب عدالت پیش کرنے کے لئے جیل سے باہر لایا گیا تو تختی سے میرا نام غائب تھا،
اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے سعید مہدی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کے دور میں لکھنا مشکل ہو چکا ہے، سعید مہدی کی کتاب ایک تاریخ ہے، اگر ہم کچھ لکھیں تو کئی بار سوچنا پڑتا ہے کبھی توہین عدالت، کبھی توہین مذہب کے الزام، کچھ بھی ہو سکتا ہے،اب تو عمران خان کا نام نہیں لکھا جاتا بلکہ بانی پی ٹی آئی کہا اور لکھا جاتا ہے،یہ کیا ہے، میں تو عمران خان ہی کہتا ہوں کیونکہ وہ میرا دوست ہے،
ولید اقبال نے بھی مصنف محمد سعید مہدی کو خراج تحسین پیش کیا اور کتاب میں بعض غلطیوں کی بھی نشاندہی کی،جن کو انتظامیہ کی جانب سے اگلے ایڈیشن میں درست کرنے کی نشاندہی کی گئی.
سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید مہدی سلطانی گواہ نہیں بنے عوامی گواہ بنے اور سرخرو ہوئے ۔ اہل صحافت کو بھی انکی کتاب پڑھنی چاہئے لکھنے والے نے کہیں بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ انکے جذبات احساسات ہیں۔ بھٹو کی محبت انکے دل میں ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے جو انکی زبانی ہم تک پہنچا۔ دائرے کا سفر پاکستان میں کب تک جاری رہے گا اس کا جواب سب کو تلاش کرنا ہے ماضی کو دوہرانے کا وقت نہیں۔ کاش نئے سرے سے آغاز سفر اور ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں تا کہ پاکستان آگے بڑھے
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کو ہوتے دیکھا لیکن کچھ بدلتے بھی نہیں دیکھا، وہی کھیل تماشا اب بھی جاری ہے ۔ اب تو شاید سعید مہدی جیسا گواہ بھی نہ یو۔ ایک دھاندلی ہوئی تو اگلی نہ ہو ۔ کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان کے آئین پر تو ساری قوم متفق ہو اور جو اس سے پھرے تو اسکو سمجھایا جائے خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔ سعید مہدی کی گواہی معتبر ہے ، ہم واقعات سنتے تھے آج وہی کتاب میں تاریخ کا حصہ بن گئے ۔سعید مہدی خوش قسمت ہیں انکو تھانیداری چھوڑے 20 برس ہو گئے لیکن آج لوگ ان کے لیے گواہ بن کر آئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ عینی گواہ بننے کے لیے آنکھ کافی نہیں۔ ضمیر بھی درکار ہوتا ہے۔
