Baaghi TV

مکلا بندرگاہ پر سعودی فضائی حملہ، متحدہ عرب امارات پر سنگین الزامات، یمن میں نیا بحران

یمن کے مشرقی ساحلی شہر مکلا میں واقع اہم تجارتی بندرگاہ پر سعودی عرب کے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والے اُن بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جو بکتر بند گاڑیاں اور اسلحہ لے کر پہنچے تھے یہ سامان امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے علیحدگی پسند عناصر کے لیے تھا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی یمن میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی جانے والی سرگرمیاں نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہیں بلکہ یہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بھی بن چکی ہیں۔ سعودی عرب نے امارات پر خطرناک اقدامات کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ریڈ لائن کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت اور فوری ردعمل دیا جائے گا۔

ریاض کی جانب سے جاری مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ یمن میں غیر ریاستی اور علیحدگی پسند گروہوں کو عسکری و مالی معاونت تنازع کو طول دے رہی ہے اور سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ سعودی عرب نے اس تناظر میں متحدہ عرب امارات سے 24 گھنٹوں کے اندر یمن سے تمام افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی یمنی دھڑوں کو فراہم کی جانے والی فوجی اور مالی امداد فوری طور پر بند کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا حامی ہے اور بحران کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات کو واحد قابلِ عمل راستہ سمجھتا ہے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ یمن میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریق بیرونی مداخلت ختم کریں اور جامع سیاسی عمل کی طرف بڑھیں۔

دوسری جانب، مکلا بندرگاہ پر حملوں کے بعد مقامی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ یہ بندرگاہ یمن کی تجارت اور رسد کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتا ہوا یہ اختلاف یمن کے تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے، جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

More posts