میرے خیال میں ہمارے معاشرہ میں گھٹن اور تنگ نظری کچھ زیادہ اثر دکھا رہی ہے۔معاشرتی بگاڑ کا اثر براہ راست ہمارے رویوں پر پڑ رہا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں معاشی اونچ نیچ، معاشرتی تفاوت، سیاسی افراتفری اور تقسیم، غصہ اور جھنجلاہٹ، حسد، بغض اور کینہ ہمہ وقت فروغ پذیر ہیں۔ ان معاشرتی بیماریوں نے ہمارے رہن سہن، ہماری روز مرہ زندگی اور ہمارے رویوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم نے شاید مثبت سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ آپ کسی دوست سے بات کریں، یا کسی بھی سوشل تقریب میں چلیں جائیں، آپکو مایوسی پھیلانے والی باتیں زیادہ ملیں گی۔ ہر بندہ اپنے حالات سے اور ملکی صورتحال سے پریشان،بلکہ بد دل نظر آئے گا، اسے اس ملک میں ہونے والے بہتر کام نظر نہیں آئیں گے، نہ ہی اپنی حالت پر غور کرے گا، کہ کل وہ کیا تھا اور آج کس مقام پر ہے۔ ناشکری ویسے ہی انسان کی مثبت سوچ کو کھا جاتی ہے۔ ہم جو ہاتھ میں ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے، بلکہ اس کی تمنا کرتے ہیں،جو دوسروں کے پاس نظر آتا ہے۔
قوموں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں ہوتی، بلکہ حقیقی ترقی کا آغاز انسان کے ذہن سے ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد مثبت سوچ، برداشت، دیانت، محنت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں، وہاں مشکلات کے باوجود ترقی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مایوسی، منفی سوچ، الزام تراشی، عدم برداشت اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا رویہ معاشرے کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ٹریفک کے مسائل، تعلیمی مشکلات، معاشرتی بے چینی اور باہمی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان تمام مسائل کے درمیان ایک بنیادی مسئلہ ہماری سوچ اور رویوں کا بحران بھی ہے۔ ہم اکثر مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے مسئلے کو بیان کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ شکایت کے ساتھ حل بھی پیش کریں اور تنقید کے ساتھ اصلاح کی کوشش بھی کریں۔
مثبت سوچ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان مشکلات کو نظر انداز کر دے یا ہر صورتحال کو اچھا سمجھنے لگے۔ مثبت سوچ دراصل مشکلات کو حقیقت پسندانہ انداز میں تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے امید، حکمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ ایک مثبت انسان ناکامی کو اختتام نہیں بلکہ تجربہ سمجھتا ہے، تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھتا ہے اور مشکلات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بناتا ہے۔
اگر ایک طالب علم یہ سوچے کہ میں محنت سے اپنی قسمت بدل سکتا ہوں، ایک استاد یہ عزم کرے کہ میں اپنے شاگردوں کی زندگی سنوار سکتا ہوں، ایک تاجر دیانت داری کو اپنا اصول بنائے، ایک سرکاری ملازم اپنے منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھے، ایک ڈاکٹر مریض کو صرف ایک کیس نہیں بلکہ ایک انسان سمجھے اور ایک نوجوان اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو یہی چھوٹی چھوٹی مثبت سوچیں مل کر ایک بڑے مثبت معاشرے کو جنم دیتی ہیں۔
معاشرے کی تعمیر میں نوجوان نسل کا کردار سب سے اہم ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر تعلیم، ہنر، تحقیق، کاروبار، ٹیکنالوجی، ادب، کھیل اور سماجی خدمت کی طرف متوجہ ہوں تو پاکستان کے مستقبل کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی بنانے کے بجائے انہیں ہنرمند، باصلاحیت، خود اعتماد اور ذمہ دار شہری بنانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس کے ذریعے علم، شعور اور مثبت پیغام چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی پلیٹ فارم جھوٹ، نفرت، کردار کشی، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو تو معاشرتی انتشار بڑھ سکتا ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کے صارفین کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم معاشرے میں نفرت بانٹ رہے ہیں یا امید، علم اور شعور۔
مثبت معاشرے کی ایک بڑی علامت برداشت اور اختلافِ رائے کا احترام بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص ہماری رائے سے اتفاق کرے۔ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں دوسروں کی بات سننے، دلیل کو سمجھنے اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنے کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اگر ہم اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ جائیں تو ہمارے گھروں، اداروں، سیاسی حلقوں اور سماجی تعلقات میں بہت سی تلخیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کو روشن بنانے کے لیے صرف حکومت کی ذمہ داری کافی نہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، لیکن شہری بھی معاشرے کا بنیادی حصہ ہیں۔ صفائی کا خیال رکھنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا، سرکاری و نجی املاک کی حفاظت کرنا، ٹیکس اور قانونی ذمہ داریوں کو سمجھنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، خون کا عطیہ دینا، درخت لگانا، تعلیم کو فروغ دینا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی پاکستان کی تعمیر میں حصہ ہے۔
ہم اکثر بڑے انقلاب کا انتظار کرتے ہیں، حالانکہ معاشرتی تبدیلی چھوٹے چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شخص کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے، دوسرا کسی بچے کی تعلیم میں تعاون کرتا ہے، کوئی خون عطیہ کرتا ہے، کوئی درخت لگاتا ہے، کوئی کسی مایوس انسان کو امید دیتا ہے اور کوئی اپنے کاروبار میں دیانت داری اختیار کرتا ہے۔ یہ بظاہر معمولی کام ہوتے ہیں، مگر یہی اعمال معاشرے کے مزاج کو تبدیل کرنے کی بنیاد بنتے ہیں۔
ہمیں اپنے گھروں سے مثبت پاکستان کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنے کی تعلیم نہ دیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تربیت بھی دیں۔ انہیں سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے، چھوٹوں سے محبت کرنے، محنت کرنے اور دوسروں کے کام آنے کا درس دیں۔ کیونکہ آج کا بچہ ہی کل کا ڈاکٹر، انجینیئر، استاد، صحافی، افسر، تاجر، سیاست دان اور معاشرتی رہنما بنے گا۔
پاکستان کا روشن مستقبل کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہم سب کے اجتماعی کردار سے وابستہ ہے۔ ہمیں اپنی گفتگو میں مثبت، اپنے فیصلوں میں ذمہ دار، اپنے کردار میں دیانت دار اور اپنے رویوں میں انسان دوست بننا ہوگا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر مسئلے پر صرف یہ نہ کہیں کہ "ملک میں کچھ نہیں ہو رہا” بلکہ یہ سوال بھی کریں کہ "میں اپنے حصے کا کیا کر رہا ہوں؟”
اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کا چراغ روشن کر دے تو اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ مثبت سوچ سے مثبت کردار پیدا ہوتا ہے، مثبت کردار سے مثبت معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور مثبت معاشرہ ہی ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد بنتا ہے۔
پاکستان کا مستقبل صرف امید سے نہیں، مثبت سوچ اور عملی کردار سے روشن ہوگا ۔
