Baaghi TV

میرا تعارف،الماس فاطمہ

باغی ٹی وی خصوصی انٹرویو: "ادب، تدریس، گھریلو ذمہ داریاں اور جدید ٹیکنالوجی
کراچی کی مایہ ناز مصنفہ سیدہ الماس فاطمہ سے گفتگو

تعارف:
کراچی سے تعلق رکھنے والی سیدہ الماس فاطمہ ایک باصلاحیت لکھاری اور شاعرہ ہیں، جنہوں نے بہت کم عمری میں اپنے قلم کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے ایک طرف نعتِ رسولِ مقبول ﷺ لکھ کر کائنات کی سب سے بڑی روحانی سعادت سمیٹی، بین الاقوامی سطح پر معتبر ادبی ایوارڈز اپنے نام کیے، اسکولوں میں نئی نسل کی علمی آبیاری کی، اور اب اردو ادب میں "روبوٹ گرل” جیسے جدید سائنسی فکشن (Sci-Fi) متعارف کروا رہی ہیں۔ باغی رائٹرز فورم کے لیے ان سے کی گئی گفتگو پیشِ خدمت ہے:

سوال 1: آپ کے ادبی سفر کا آغاز کیسے ہوا؟ اور اس سفر کا پہلا اہم سنگِ میل کیا تھا؟
جواب: لکھنے کا شوق مجھے بچپن ہی سے تھا۔ الفاظ سے محبت اور اردگرد کے ماحول کو کہانی کی شکل دینا میری عادت بن گیا تھا۔ میرے ادبی سفر کا پہلا باقاعدہ اور رسمی سنگِ میل تب طے ہوا جب مجھے "طالبِ نظر رائٹرز فورم” کی جانب سے زندگی کا پہلا ادبی ایوارڈ ملا۔ اس ایوارڈ نے میرے حوصلے کو وہ جلا بخشی کہ میں نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

سوال 2: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اسکول میں تدریس (Teaching) کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ اس تدریسی تجربے اور آپ کے گھریلو سفر نے آپ کی لکھاری کی حیثیت سے کیسی تربیت کی؟
جواب: جی بالکل! انٹرمیڈیٹ کے فوراً بعد میری شادی طے ہو گئی تھی، لیکن اس سے پہلے مجھے اسکول میں بچوں کو پڑھانے کا موقع ملا۔ اسکول میں تدریس کے تجربے نے مجھے بچوں کی نفسیات، ان کی معصومیت اور ان کے مسائل کو بہت قریب سے سمجھنے کا موقع دیا، جس کی بدولت مجھے بچوں کے لیے ادب اور کہانیاں لکھنے میں بہت مدد ملی۔ اگرچہ زندگی کے فیصلے اور گھریلو ذمہ داریاں اپنی جگہ رہیں، لیکن میں نے اپنے لکھنے کے شوق کو کبھی کم ہونے نہیں دیا، بلکہ اپنے مشاہدات کو ہمیشہ قلم کے ذریعے کاغذ پر اتارا ہے۔

سوال 3: آپ کی تحاریر میں ایک طرف "خاتم النبیین ﷺ” جیسی مقدس کتاب میں شمولیت ہے، تو دوسری طرف سائنسی فکشن۔ ان دونوں بالکل مختلف اصناف میں توازن کیسے پیدا کرتی ہیں؟
جواب: حضورِ اکرم ﷺ کی مدحت و ثناء پر مبنی عالمی انتھالوجی کتاب "خاتم النبیین محمد ﷺ” میں میری تحاریر کا شامل ہونا میرے لیے دنیا و آخرت کا سب سے بڑا اثاثہ اور مایہ ناز سعادت ہے۔ یہ میرا روحانی پہلو ہے۔ دوسری طرف، سائنسی فکشن میرا ذہنی اور فکری ارتقاء ہے۔ اسلام ہمیں علم، تدریس اور جدید تحقیق کی دعوت دیتا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ کائنات پر غور کرنا اور سائنسی موضوعات پر لکھنا بھی ایک لکھاری کا فرض ہے، اور میں ان دونوں میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

سوال 4: اردو ادب میں سائنسی فکشن اور خصوصاً "روبوٹ گرل” جیسے موضوعات پر لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
جواب: ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور روبوٹکس ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک معلمہ (Teacher) ہونے کے ناطے میں جانتی ہوں کہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا کتنا ضروری ہے۔ چنانچہ، میری روبوٹ پر مبنی منفرد کہانی کراچی کے معتبر "زیست میگزین” میں شائع ہوئی، جسے بہت سراہا گیا۔ اب میرا ادبی سفر "روبوٹ گرل” اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اچھوتے اور جدید موضوعات کے گرد گھوم رہا ہے۔

سوال 5: آپ کو بھارت سے "زیب النساء زیبؔی لٹریری ایوارڈ 2024” سے نوازا گیا، اس بین الاقوامی اعزاز پر کیسا محسوس ہوا؟
جواب: جب آل انڈیا ادبِ اطفال سوسائٹی (انڈیا) کی جانب سے مجھے "زیب النساء زیبؔی لٹریری ایوارڈ 2024” دینے کا اعلان ہوا، تو یہ صرف میری نہیں بلکہ پورے پاکستان کی عزت تھی۔ یہ ایوارڈ مجھے شاعری، نثر، افسانہ نگاری اور بچوں کے ادب میں مجموعی خدمات پر دیا گیا، جس میں یقیناً میرے اسکول ٹیچنگ کے مشاہدات کا بھی بڑا ہاتھ رہا۔ اس کے علاوہ، پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے بین الاقوامی افسانوی مقابلے (2023) میں "سرٹیفکیٹ آف ایکسی لینس” ملنا اور ان کی کتاب "زمین اداس ہے” میں بطور انٹرنیشنل کو-آتھر شامل ہونا بھی میرے لیے انتہائی حوصلہ افزا رہا۔

سوال 6: آپ کو پاکستان بھر کے سرفہرست 100 لکھاریوں میں بھی شامل کیا گیا، اس بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب: جی بالکل، لاہور کے مشہور اور معتبر ماہنامہ "پھول” میگزین کے چیف ایڈیٹر نے مجھے ملک بھر کے سرفہرست 100 لکھاریوں میں منتخب کیا، جس کے بعد مجھے نیشنل اہلٔ قلم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے قومی سطح پر بہت بڑا اعزاز تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معروف ادیب کاوش صدیقی صاحب کے ادبی سلسلے "31 تبصرے” میں بہترین کارکردگی پر نقد رقم کا انعام ملنا بھی میرے سفر کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔

سوال 7: آپ کی آنے والی کتب اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں قارئین کو کچھ بتائیں۔
جواب: اب تک میری تحاریر معتبر علمی سلسلے مقیاس الادب کی کتب "دینِ اسلام” اور "الصحابیات الجلیلات” کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، میرے لیے انتہائی فخر کی بات ہے کہ میری ادبی تخلیقات معتبر انتھالوجی کتب "اردو زبان کی جنگ” اور ختمِ نبوت پر مبنی موضوعاتی کتاب "خاتم النبیین محمد ﷺ” میں شامل کی گئی ہیں، اور "اردو زبان کی جنگ” کتاب پر مجھے خصوصی شیلڈ سے بھی نوازا گیا ہے، جو کہ میرے ادبی سفر کا ایک یادگار سنگِ میل ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ میری شاعری اور دیگر تحاریر معروف اسکالر ڈاکٹر خضر حیات کی زیرِ نگرانی مرتب ہونے والے مجموعے اور ایک اور جامع اردو انتھالوجی کے لیے منتخب ہو چکی ہیں، جو کہ بہت جلد شائع ہو کر منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔ مستقبل میں میرا ارادہ سائنسی فکشن پر ایک مکمل کتاب لانے کا ہے۔

سوال 8: باغی رائٹرز فورم کے ذریعے آپ ابھرتے ہوئے نئے لکھاریوں، خصوصاً گھریلو خواتین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
جواب: میں سب سے یہی کہوں گی کہ کبھی بھی حالات یا ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے خوابوں کو ادھورا نہ چھوڑیں۔ اگر آپ کے پاس لکھنے کی صلاحیت ہے، تو اپنی گھریلو زندگی کے ساتھ بھی اسے جاری رکھیں۔ قلم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں، مطالعہ وسیع کریں، تنقید سے نہ گھبرائیں اور اپنے سینئرز کی عزت کریں۔ میں خود بھی اس بین الاقوامی ادبی حلقے میں اپنے تمام اساتذہ اور سینئرز سے سیکھنے کے لیے ہمیشہ پرجوش رہتی ہیں۔

نیک تمناؤں کے ساتھ،
سیدہ الماس فاطمہ

More posts