Baaghi TV

مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان کو غیرقانونی کال سینٹر کیس میں ضمانت مل گئی

karachi

کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف غیرقانونی کال سینٹر چلانے کے مقدمے میں درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

کیس کی سماعت کے دوران وکیلِ صفائی خرم عباس ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سال 2025 میں ملزم ارمغان کے خلاف جاری انکوائری مکمل کی جا چکی ہے، تاہم تفتیش کے دوران استغاثہ ملزم کے خلاف کوئی بھی ٹھوس یا قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ وکیلِ صفائی کا مؤقف تھا کہ نہ تو ملزم کے خلاف کوئی تحریری شکایت درج ہے اور نہ ہی کوئی ایسا گواہ موجود ہے جو عدالت میں آ کر ملزم پر الزام کی تصدیق کر سکے۔

خرم عباس ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ محض شبہات یا بغیر ثبوت کے کسی شہری کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنا قانون اور آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو غیرقانونی کال سینٹر کیس میں بلاجواز ملوث کیا گیا اور تفتیشی ادارے عدالت کے سامنے کوئی ایسا مواد پیش نہیں کر سکے جو ضمانت کی مخالفت کا جواز بن سکے۔عدالت نے وکیلِ صفائی کے دلائل سننے اور مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس مقدمے میں فی الوقت ملزم کے خلاف شواہد ناکافی ہیں، اس لیے قانون کے مطابق اسے ضمانت کا حق دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ملزم ارمغان اس وقت مصطفیٰ عامر قتل کیس سمیت دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات میں بھی نامزد ہے، جن میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات شامل ہیں۔ ان مقدمات کی سماعت مختلف عدالتوں میں جاری ہے

More posts