وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرز زندگی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک پُرامن، ہم آہنگ اور متحد معاشرے کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ملکی سطح پر ایسے سماجی ماحول کی تشکیل جو امن کے فروغ کا باعث ہو بلا شبہ ہماری بصیرت افروز قومی وراثت اور آئینی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے قومی ترجیحات کی نشاندہی کرتے ہوۓ واضح کیا تھا کہ بحیثیت قوم ” ہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں دیانت داری اور منصفانہ طرز عمل کے اصول پر یقین رکھتے ہیں اور اندرون و بیرون ملک امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں،شہباز شریف نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ انسانی حقوق کے آئینی تحفظ کے ساتھ ساتھ پالیسی و عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسی ضمن میں حکومت نے ’’قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق‘‘ تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، بچوں کا تحفظ اور محروم و کمزور طبقات کے حقوق کا فروغ ہے۔ ملک کے پہلے "قومی ایکشن پلان برائے کاروبار و انسانی حقوق‘‘ پر عمل درآمد جاری ہے جس کے ذریعے ذمہ دارانہ کاروباری طرز عمل، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ، امتیازی سلوک کے خاتمے اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مؤثر ازالے کو فروغ دینا ہے۔ یہ پالیسی اقدامات ایک منصفانہ، مربوط اور مساوی معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں،حکومت نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ’’قومی کمیشن برائے انسانی حقوق‘‘ کے قیام اور فعالیت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صوبوں میں بھی ’’ضلعی انسانی حقوق کمیٹیاں‘‘ قائم کی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ ان اقدامات کو ’’ٹیکنالوجی کے ذریعے سہولت یافتہ صنفی بنیاد پر تشدد کے تدارک کی قومی حکمتِ عملی‘‘ اور اقلیتی فلاحی فنڈ کے ذریعے مزید تقویت دی جا رہی ہے۔
