اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے معروف ٹی وی اینکر منصور علی خان کو اوور اسپیڈنگ پر روکنے کے معاملے میں مبینہ نرمی برتنے کے الزامات پر اپنے اہلکاروں کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا، جب موٹر وے پولیس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم شام تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر چکری انٹرچینج کے قریب رفتار چیک کرنے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران اہلکاروں نے BQB-79 نمبر کی گاڑی کو 166 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے پایا، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی.پیٹرولنگ ٹیم میں شامل انسپکٹر وسیم مرتضیٰ اور سب انسپکٹر سعادت حسن نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا، تاہم ڈرائیور نے مبینہ طور پر چیک پوسٹ پر گاڑی نہیں روکی اور سفر جاری رکھا۔بعد ازاں گاڑی کو اسلام آباد کے قریب انسپکٹر فراز مہدی نے روک لیا، جنہوں نے ڈرائیور کی شناخت منصور علی خان کے طور پر کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ افسر ٹریفک خلاف ورزی پر چالان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم بعد میں اس معاملے میں مبینہ نرمی کے الزامات سامنے آنے پر موٹر وے پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ترجمان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق انکوائری کا مقصد واقعے کی مکمل حقیقت معلوم کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا اہلکاروں نے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی یا نہیں۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔
