وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شہید بے نظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی جانب سے انگریزی میں کی گئی تقریر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اردو میں خطاب کی ہدایت جاری کر دی۔
پشاور میں یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وائس چانسلر کی انگریزی تقریر انہیں پسند نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور تمام سرکاری و تعلیمی تقاریب میں اسی زبان کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ آئندہ اگر انگریزی میں تقریر کی گئی تو وہ سخت ردعمل دیں گے، جبکہ تمام جامعات کو اردو میں خطاب کی ہدایات پہلے ہی دی جا چکی ہیں۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، تاہم ان کے باوجود دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات قوم کو اعتماد میں لے کر کیے جانے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ماضی میں قبائلی علاقوں میں غربت اور محتاجی کا یہ عالم نہیں تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے لیے بارہا قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔
قومی زبان اردو ہے، آئندہ انگریزی تقریر برداشت نہیں ہوگی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
