قومی مفاد یا سیاسی مفاد؟ نئے صوبوں اور ترقیاتی منصوبوں پر سیاست کب تک؟
کالا باغ ڈیم سے نئے انتظامی یونٹس تک: قوم ترقی چاہتی ہے، سیاستدان اتفاقِ رائے پیدا کریں
تجزیہ شہزاد قریشی
پاکستان کی مسلح افواج، سفارتی اداروں اور وزارتِ خارجہ نے گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کی موجودگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ لیکن ایک ریاست کی اصل طاقت صرف خارجہ محاذ پر کامیابی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی جانچی جاتی ہے کہ اندرونِ ملک عوام کو کتنی سہولتیں، انصاف اور بہتر طرزِ حکمرانی میسر ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں کئی قومی منصوبے سیاسی تنازعات کی نذر ہو گئے۔ کالا باغ ڈیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس منصوبے کے حامی اسے پانی ذخیرہ کرنے، بجلی پیدا کرنے اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالف صوبے اسے اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی عدم اعتماد اس منصوبے کو دہائیوں سے متنازع بنائے ہوئے ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق اس تنازعے کی بنیادی وجہ صرف تکنیکی نہیں بلکہ بین الصوبائی اعتماد کا فقدان اور سیاسی اختلافات بھی ہیں۔ اسی طرح نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا شکار رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں آبادی بڑھنے اور انتظامی معاملات پیچیدہ ہونے پر نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں قائم کی جاتی ہیں تاکہ عوامی خدمات مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔ پاکستان میں بھی جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر نئے صوبوں کی تجاویز وقتاً فوقتاً زیرِ بحث رہی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی منصوبے یا انتظامی اصلاح سے عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار، پانی، سیوریج اور حکومتی خدمات مل سکتی ہیں تو پھر اس پر سیاست کیوں کی جاتی ہے؟ قومی رہنما ہونے کا مطلب صرف جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کرنا نہیں ہوتا۔ حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو قومی مفاد کو سیاسی فائدے پر ترجیح دے۔ اگر کسی منصوبے میں خامیاں ہیں تو ان کی نشاندہی کی جائے، تحفظات دور کیے جائیں اور اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ لیکن اگر ہر ترقیاتی منصوبہ محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر روک دیا جائے تو نقصان عوام کا ہوتا ہے۔پاکستان کے بڑے شہروں اور اضلاع میں آج بھی لاکھوں لوگ صاف پانی، نکاسی آب، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کئی علاقوں میں آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی نعروں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے ذریعے اس بحث کو دفن کر دینا چاہیے۔ کالا باغ ڈیم کے معاملے نے یہ سبق ضرور دیا ہے کہ قومی منصوبے صرف طاقت یا اکثریت کے زور پر نہیں بن سکتے؛ ان کے لیے اعتماد، شفافیت اور قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ آج پاکستان کو جس سیاست کی ضرورت ہے وہ مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ "سیاست برائے خدمت” ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی خود کو قومی قیادت کا دعویدار سمجھتی ہیں تو انہیں ہر اس منصوبے اور اصلاحات پر کھلے دل سے غور کرنا ہوگا جو عوام کی زندگی آسان بنا سکتی ہوں۔ قوم کو نعروں سے زیادہ نتائج چاہئیں، اور تاریخ ہمیشہ انہی رہنماؤں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے سیاسی مفاد سے بڑھ کر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
