اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے اتوار کے روز ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے بعد، ایران کے خلاف فضائی حملوں میں آنے والے دنوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔
تل ابیب میں وزارت دفاع کی عمارت کی چھت سے ریکارڈ کرائے گئے اپنے ویڈیو بیان میں نتن یاہو نے کہا:
"ہماری افواج اس وقت تہران کے قلب کو بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ نشانہ بنا رہی ہیں، اور یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید تیز ہوگا۔”
اسرائیلی وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیل کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ ایک تفصیلی جائزہ اجلاس مکمل کیا ہے، جس میں انہوں نے "مہم کے بقیہ مراحل کے لیے واضح ہدایات” جاری کی ہیں۔
نتن یاہو نے اسرائیل کے لیے "تکلیف دہ دنوں” کا اعتراف بھی کیا، جس سے ان کی مراد پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران تل ابیب اور بیت شیمیش میں ہونے والے ایرانی میزائل حملے تھے، جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
اپنی گفتگو میں نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی فوج کے ساتھ قریبی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا:
"یہ مشترکہ کوششیں ہمیں وہ کرنے کے قابل بنا رہی ہیں جس کی میں 40 سال سے خواہش کر رہا تھا یعنی دہشت گرد رجیم کو ایک ایسی ضرب لگانا جو اسے مکمل طور پر ناکارہ بنا دے۔”
نتن یاہو کا تہران پر حملوں میں شدت لانے کا اعلان: ‘ایرانی رجیم کو فیصلہ کن ضرب لگائیں گے’
