Baaghi TV

محسن نقوی کا بیان، نظام کی اصلاح کا مطالبہ یا سیاسی ہنگامہ؟تجزیہ:شہزادقریشی

سسٹم کب درست ہوگا،کون درست کرے گا ،قیام پاکستان سے اب تک سوال موجود
انتظامی اور سیاسی روئیے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ ،ذمہ دار کون؟
وزیراعلیٰ پنجاب نے نظام کو ٹریک پر ڈال دیا،چٹ سسٹم کا خاتمہ بہتری کی علامت
افسوس!سیاسی ذمہ دار کسی بھی بیان کا مفہوم سمجھنے کیلئے تیار نہیں ،تربیت کون کریگا؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے پر ملک بھر میں سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،تاہم اس بیان کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ لفظ "سسٹم” کو اس کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، سسٹم سے مراد محض ایک ادارہ یا ایک شعبہ نہیں بلکہ مجموعی انتظامی، سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ ہوتا ہے جو ریاست کے امور کو چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے،پاکستان میں برسوں سے یہ شکایات موجود رہی ہیں کہ بعض انتظامی اور سیاسی روئیے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں،بیوروکریسی، سیاسی اثر و رسوخ، سفارش اور ذاتی مفادات پر مبنی بعض روایات نے عام شہری اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کئے، ایسے حالات میں اگر کوئی ذمہ دار عہدیدار نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے محض تنقید نہیں بلکہ اصلاح کی دعوت سمجھا جانا چاہیے،محسن نقوی کے بیان کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے، بظاہر ان کا اشارہ اس فرسودہ طرزِ حکمرانی کی طرف تھا جس میں بعض بااثر طبقات عوامی مفاد پر اپنے سیاسی یا معاشی مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں، ان کی گفتگو کا مقصد نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی ضرورت کو اجاگر کرنا معلوم ہوتا ہے نہ کہ ریاستی اداروں یا عوام کی تضحیک،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے انتظامی اصلاحات کی مثال بھی اسی تناظر میں پیش کی جاتی ہے، ان اصلاحات کا بنیادی مقصد شہریوں کو سفارش، سیاسی دباؤ اور نام نہاد "چٹ سسٹم” سے نجات دلانا اور سرکاری اداروں کو براہِ راست عوام کے سامنے جوابدہ بنانا قرار دیا جاتا ہے، اگر عوام کو اپنے جائز کام کے لئے کسی سیاسی شخصیت یا بااثر فرد کی سفارش درکار نہ ہو تو یہ جمہوری اور انتظامی بہتری کی علامت سمجھی جاتی ہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی ماحول میں اکثر بیانات کو ان کے اصل مفہوم کے بجائے سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھا جاتا ہے، اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور لفظوں پر تنازعات کھڑے کر دئیے جاتے ہیں، ملک کو اس وقت الزام تراشی، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور غیر ضروری ہنگامہ آرائی کے بجائے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے،اگر نظام میں واقعی خامیاں موجود ہیں تو ان کا اعتراف کمزوری نہیں بلکہ اصلاح کی پہلی شرط ہے،قوموں کی ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب وہ اپنے مسائل کی نشاندہی کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان مسائل کے حل پر توجہ دیں، یہی رویہ پاکستان کو ایک زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست نظامِ حکمرانی کی طرف لے جا سکتا ہے

More posts