Baaghi TV

وینزویلا صدرکی گرفتاری ،امریکا بھر میں ’’نو وار آن وینزویلا‘‘ مظاہروں کا اعلان

امریکا میں آج مختلف شہروں میں وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی افواج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر بڑے پیمانے پر حملہ کرکے صدر نکولس کو گرفتار کرلیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایک اور طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے نتائج نہ صرف وینزویلا بلکہ خطے اور دنیا کے لیے خطرناک ہوں گے۔

امریکی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرم تنظیم آنسر کولیشن (Answer Coalition) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہمیں سڑکوں پر نکل کر ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کو ‘نہ’ کہنا ہوگا۔ اس ملک کے عوام ایک اور جنگ نہیں چاہتے۔ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر جنگ وہاں کے عوام کے لیے موت اور تباہی کا باعث بنے گی۔”تنظیم کے مطابق شکاگو، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر، جبکہ ملک بھر کے سٹی ہالز اور اسٹیٹ ہاؤسز کے سامنے آج سہ پہر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

میڈورو کی نیویارک منتقلی، گوانتانامو بے میں مختصر قیام متوقع
امریکی ذرائع کے مطابق گرفتار وینزویلا کے صدر نکولس آج نیویارک پہنچ سکتے ہیں، جہاں انہیں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل ان کا امریکی فوجی اڈے گوانتانامو بے میں مختصر قیام متوقع ہے، جہاں سے انہیں براہ راست نیویارک منتقل کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نکولس کو پیر کے روز مین ہیٹن میں واقع سدرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ میڈورو پر 2020 میں منشیات اسمگلنگ اور نرکو ٹیررازم کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں ایک نئی اور مزید سخت فردِ جرم بھی سامنے لائی گئی ہے۔

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے والی خفیہ فوجی کارروائی کو “آپریشن ایبسلوٹ ریزولو” کا نام دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن 2 جنوری کی تاریک رات میں انتہائی رازداری اور درستگی کے ساتھ انجام دیا گیا اور اس کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی۔جنرل ڈین کین کے مطابق یہ ایسا آپریشن تھا جو صرف امریکی فوج ہی انجام دے سکتی تھی، جس میں جدید فضائی اور زمینی صلاحیتوں کا استعمال کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنے ریزورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وینزویلا کے تیل پر امریکی پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری بیڑا خطے میں موجود ہے اور تمام فوجی آپشنز بدستور زیر غور ہیں۔صدر ٹرمپ نے نکولس مادوروکے اتحادیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ
“وینزویلا کی سیاسی اور عسکری قیادت کو سمجھ لینا چاہیے کہ جو نکولس مادوروکے ساتھ ہوا، وہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اگر وہ اپنے عوام کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے۔”انہوں نے نکولس مادورو کی گرفتاری کو وینزویلا کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وینزویلا کے عوام آزاد ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک اور غیر معمولی بیان میں کہا کہ امریکا وینزویلا میں عبوری طور پر اقتدار سنبھالے گا، جب تک ایک “محفوظ اور مناسب” سیاسی انتقالِ اقتدار ممکن نہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا کے توانائی کے نظام کو سنبھالیں گی اور اس کی بوسیدہ آئل انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔

ان بیانات کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا کے اندر بھی احتجاجی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے میڈورو کی گرفتاری کو “بین الاقوامی انصاف کی فتح” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2024 کے متنازع انتخابات میں اپوزیشن امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کو حقیقی صدر منتخب کیا گیا تھا، جنہیں اب فوری طور پر اقتدار سنبھالنا چاہیے۔

نکولس مادوروکی گرفتاری، امریکی فوجی کارروائی، اور امریکا میں ہونے والے ’’نو وار آن وینزویلا‘‘ مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ یہ معاملہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ بحران عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے

More posts