Baaghi TV

دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے ماحولیات کو شدید خطرے میں ڈال دیا

سندھ اور پنجاب کے دریاؤں میں غیر مقامی اور حملہ آور نوع کی مچھلیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے مقامی ماہی گیری اور ایکو سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں نہ صرف مقامی انواع کو کھا رہی ہیں بلکہ ان کی خوراک اور رہائش کے علاقوں پر قبضہ کر کے مقامی ایکو سسٹم کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

آبی ماہرین اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستانی پانیوں میں 26 مختلف غیر ملکی مچھلیوں کی اقسام دیکھی جا چکی ہیں، جو عام طور پر گھروں کے ایکوریم کے لیے امپورٹ کی جاتی ہیں۔ ان حملہ آور مچھلیوں میں ایمازون سیل فن کیٹ فش، پاکو اور سرخ پیٹ والی تلپیا مچھلیاں سرفہرست ہیں، جو بنیادی طور پر لاطینی امریکا سے آئی ہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان مچھلیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف مقامی مچھلیوں کی نسلوں کو ختم کر دیں گی بلکہ دریاؤں کے قدرتی ماحول کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق یہ مچھلیاں تیزی سے بڑھتی ہیں اور ان کے شکار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مقامی انواع کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔

حالیہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مچھلیاں کس طرح پاکستانی دریاؤں تک پہنچی ہیں، اس پر کام جاری ہے۔ ابتدائی خدشات کے مطابق زیادہ تر مچھلیاں غیر قانونی طور پر ایکوریم سے پانی میں چھوڑ دی گئی ہیں یا تجارتی امپورٹ کے دوران غیر ارادی طور پر ریلز اور پانی کی ترسیل کے ذریعے ریلے میں شامل ہو گئی ہیں۔

ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان حملہ آور مچھلیوں کو کنٹرول کیا جا سکے، کیونکہ ان کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ مقامی ایکو سسٹم پر ان کے اثرات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے نے بتایا، "اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کے دریاؤں میں مقامی مچھلیوں کی نسلیں معدوم ہو سکتی ہیں اور پورا ایکو سسٹم تباہ ہو سکتا ہے۔”

More posts