Baaghi TV


شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ، جوہری صلاحیت مزید مضبوط

‎شمالی کوریا نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ ونگ یانگ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ملک نے کلسٹر بم وار ہیڈ سے لیس ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
‎بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً 7 ہیکٹر کے وسیع علاقے میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہتھیار میدانِ جنگ میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
‎رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی اکیڈمی آف ڈیفنس سائنس اور میزائل ایڈمنسٹریشن نے اس کے ساتھ ساتھ دیگر جدید ہتھیاروں کے تجربات بھی کیے، جن میں برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام، کاربن فائبر بم اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے طیارہ شکن میزائل سسٹم شامل ہیں۔
‎ان تجربات کی نگرانی کرنے والے جنرل کم جونگ سک کے مطابق برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام اور کاربن فائبر بم شمالی کوریا کی فوج کے لیے نہایت اہم اور خصوصی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار دشمن کے حساس نظام کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
‎دفاعی ماہرین کے مطابق شمالی کوریا عالمی حالات، خصوصاً یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے سیکھتے ہوئے اپنی فوجی حکمت عملی کو جدید بنا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ تجربات نہ صرف روایتی جنگی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہیں۔
‎جنوبی کوریا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی مقناطیسی ہتھیار دشمن کے الیکٹرانک نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں، جبکہ کاربن فائبر بم بنیادی ڈھانچے جیسے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کسی بھی تنازع میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے ایسے جدید ہتھیاروں کی تیاری خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

More posts