مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی نہ آ سکی بلکہ نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جبکہ برینٹ خام تیل بھی 8 فیصد اضافے کے ساتھ 109 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو تیل درآمد کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کچھ مارکیٹوں میں کمی جبکہ بعض میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس 1612 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 50 ہزار 398 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ شنگھائی انڈیکس بھی تقریباً 1 فیصد نیچے آگیا۔
اس کے برعکس جاپان کے نکئی انڈیکس میں 1.26 فیصد اور جنوبی کوریا کے کاسپی انڈیکس میں ڈھائی فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں توانائی کی قیمتوں اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
تیل مہنگا، عالمی منڈیاں دباؤ کا شکار
