اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اس تبدیلی کا سب سے بڑا معمار سوشل میڈیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی، سوچ، ہمارے ذہنوں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرتی رویوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دور حاضر کی ان سہولیات نے جہاں رابطوں کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اس نے ہمارے سماجی، معاشرتی اور اخلاقی تانے بانے کو شدید متاثر بھی کیا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا ہمارے لیے کاروبار اور تفریح کا جہان آباد کیا ہے وہیں اس نے معاشرتی رویوں، تعلقات اور اقدار پر بھی کافی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دنیا میں ہر وہ کام جو بظاہر ہمارے سہولت کے لیے نظر آتا ہے دراصل اس کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ آئیے! سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ تمام پہلو ہمارے معاشرتی رویوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اگر ہم غور فکر کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے معاشرے کو متعدد مثبت مواقع اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ جیسے بہت ذیادہ چیزوں کی معلومات، شعور اور آگاہی دی ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، تفریح، سیاست اور دنیا بھر کے حالات حاضرہ سے آگاہی اب محض ایک کلک کی دوری پر ہے۔ معاشرتی مسائل پر آواز اٹھانا ماضی میں کبھی اتنا آسان نہیں تھا۔ نوجوان نسل کو کاروباری اور معاشی مواقع فراہم کیے ہیں۔ ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے چھوٹے تاجروں، بالخصوص خواتین کے لیے گھر بیٹھے روزگار کے نئے دروازے کھلے ہیں۔ طلباء اور اساتذہ کے لیے تحقیق کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ آن لائن کورسز، لیکچرز اور تعلیمی مواد تک رسائی چند لمحوں میں ممکن بنا دی ہے۔ سوشل میڈیا کا ایک اور مثبت قدم کہ اس نے اظہارِ رائے کی آزادی دی ہے۔ عام آدمی کو اپنی بات، ہنر اور سوچ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا ہے جو پہلے صرف روايتی میڈیا ٹی وی اور اخبارات تک محدود تھا۔ سماجی اور فلاحی کاموں کو نیا سنگ میل ملا ہے۔ کسی مریض کے لیے خون کا عطیہ ہو یا کسی آفت زدہ کی مدد، سوشل میڈیا کے پیغامات کے ذریعے منٹوں میں لاکھوں روپے اور امداد جمع کر لی جاتی ہے۔ جہاں سوشل میڈیا نے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے اور بہت مثبت کام کیے ہیں وہیں سوشل میڈیا کے نقصانات بھی انسانی زندگی پر عیاں ہیں۔ یہ ایک خاموش زہر کی طرح ہماری زندگیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ فرمان نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مطابق "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات پر یقین کرے اور بغیر تصدیق کے آگے پہنچائے۔” تو آج سوشل میڈیا جھوٹی خبریں، سستی شہرت کے پیچھے پھیلا رہا ہے۔ سنسنی خیزی اور ریٹنگ کی دوڑ میں بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانا ایک معمول بن چکا ہے۔ جس سے معاشرے میں خوف اور بے یقینی پھیلتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف گھنٹوں سکرولنگ کرنے کی عادت نے ہمیں وقت ضائع کرنے والوں کی فہرست میں کھڑا کر دیا ہے۔ ہمارے دماغ کو ریلز میں الجھا کر ہماری صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی کی ہر بات انٹرنیٹ پر شیئر کرنے کے رجحان نے لوگوں کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ اب نجی زندگی پبلک بنتی جا رہی ہے۔
سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے معاشرتی رویوں کے اثرات پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟سوشل میڈیا کا سب سے گہرا اثر ہمارے آپسی تعلقات اور رویوں پر پڑا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے دن بدن ہمارے رابطوں میں اضافہ، مگر تعلقات میں دوری آ گئی ہے۔ فرینڈ لسٹ تو ہزاروں کی ہے لیکن حقیقت میں کوئی دوست نہیں کیونکہ دوست تو وہ ہوتا ہے جو ہر مصیبت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ سوشل میڈیا کی دوستی بس ایک لائیک اور کمینٹ تک محدود ہے۔ ہم آن لائن تو سینکڑوں لوگوں سے جڑے ہیں، لیکن اپنے ہی گھر میں بیٹھے افراد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ خاندانی نشستوں پر لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنے فون کی سکرین پر مصروف نظر آتے ہیں، جس سے آپسی محبت اور ہمدردی کا عنصر ختم ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بچے کے آن لائن ہونے سے ماں کو پتہ چلتا ہے کہ وہ سو کر اٹھ چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے مزید منفی پہلو پر روشنی ڈالوں تو عدم برداشت اور منفی رویہ سامنے آتا ہے۔ لوگوں کو گمنام ہو کر دوسروں پر تنقید کرنے کا موقع سر عام مل جاتا ہے۔ اختلافات پر شائستگی کے بجائے گالی گلوچ، ٹرولنگ اور نفرت انگیز مواد کو فروغ مل رہا ہے، جس نے ہمارے اندر برداشت کا مادہ ختم کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ اپنی زندگی کا صرف بہترین حصہ شیئر کرتے ہیں۔ دوسروں کی پرتعیش زندگی، سیر و تفریح اور خوبصورت تصاویر دیکھ کر عام انسان احساسِ کمتری، حسد اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
زیادہ سے زیادہ لائیکس اور ویوز حاصل کرنے کی دوڑ میں اخلاقی حدود کو پامال کیا جا رہا ہے۔ سنسنی خیز اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر راتوں رات مشہور ہونے کا جنون ہماری نوجوان نسل کی ترجیحات کو بگاڑ رہا ہے۔ جہاں مسائل ہوتے ہیں وہیں پر ان کے حل بھی موجود ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو ہماری زندگیوں میں ایسے رچ بس گیا ہے جسے ہم چاہ کر بھی ختم نہیں کر سکتے، لیکن اس کے درست اور متوازن استعمال کی یقینی کوشش کی جا سکتی ہے۔ کوشش کرنے سے تو جنگیں بھی جیتی جا سکتی ہیں تو ہمیں کرنا کیا ہے؟ ہمیں اپنے سکرین ٹائم کو محدود کرنا ہو گا اور حقیقی زندگی کے تعلقات کو ترجیح دینی ہو گی۔ اصول بنا لیں کہ کسی بھی خبر یا افواہ کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی کرنی ہے۔ والدین نے یہ جو ماچس بچوں کے ہاتھوں میں پکڑا دی ہے اس کو استعمال کرنے کی ڈیجیٹل اخلاقیات سکھانی چاہئیں۔ حکومت کو سائبر بلنگ اور فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت قوانین پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ تو اچھا ہے اور نہ برا بلکہ اس کا مثبت یا منفی ہونا ہمارے استعمال پر منحصر ہے۔ یہ ایک چھری کی مانند ہے جس سے سبزیاں بھی کاٹی جا سکتی ہیں اور کسی کا نقصان بھی کیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو اپنے رویوں کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہیں یا اسے اپنی اخلاقی اور سماجی قدروں کی تباہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ بنی نوع انسان اپنے افکار، کردار اور گفتار میں بہت طاقتور ہے تو کسی بھی بیرونی طاقت کو خود پر خاوی نہ ہونے دیں کیونکہ سوشل میڈیا انسان کی ایجاد ہے۔ انسان سوشل میڈیا کی ایجاد نہیں ہے۔ لہذا سوشل میڈیا ہمارا غلام ہے ہم اس کے غلام نہیں ہیں۔ مالک غلام کے مطابق نہیں چلتا بلکہ غلام کو اپنے مطابق چلاتا ہے۔ یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے سوشل میڈیا کو کیسے استعمال کرنا ہے اور کیسے اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ کسی بھی چیز میں مثبت طرز عمل ہمارے لیے آسانیوں کے دروازے کھولتا ہے۔ مثبت رہیے رب العزت آپ کی زندگیوں میں آسانیاں فرمائے۔ آمین!
