Baaghi TV

موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

israel

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی زمینی کارروائی انجام دینے سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے انکار کر دیاتھا-

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق موساد کا مؤقف تھا کہ ایسی کارروائی سے نہ صرف یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی مذاکرات متاثر ہوں گے بلکہ قطر کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا جو اس وقت اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے،زمینی آپریشن نہ ہونے کے بعد اسرائیل نے فضائی حملے کا راستہ اختیار کیا۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی دفاعی اداروں کی اکثریت نے اس حملے کی مخالفت کی تھی اور تجویز دی تھی کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات مکمل کیے جائیں،موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیع، آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ایال زمیر اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر زاچی ہانگبی نے اس آپریشن کی مخالفت کی جبکہ وزیراعظم نیتن یاہو، وزیر دفاع اسرائیل کاتز اور دیگر وزرا نے اس کی حمایت کی۔

اسرائیلی اعلان کے مطابق حملہ فضائیہ اور شِن بیت کی مشترکہ کارروائی تھی، جس کی نگرانی شِن بیت کے کمانڈ سینٹر سے کی گئی، عام طور پر موساد غیر ملکی کارروائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہے لیکن اس بار ایجنسی نے قطر میں زمینی آپریشن کرنے سے انکار کر دیا۔

واشنگٹن پوسٹ نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ موساد قطر کو ایک اہم ثالث سمجھتا ہے اسی لیے اس مرحلے پر قیادت کے خاتمے کے بجائے موقع کی مناسبت دیکھنا زیادہ بہتر ہے ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا ہم ان تک ایک، 2 یا 4 سال بعد بھی پہنچ سکتے ہیں، موساد دنیا کے کسی بھی کونے میں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ابھی اس کی ضرورت نہیں تھی۔

More posts