اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں آئس کا مکروہ دھندا بے قابو، گلی محلوں میں منشیات کی منڈیاں قائم، ہوم ڈلیوری سے نوجوان نسل تباہ، شہری عدم تحفظ کا شکار
تفصیلات کے مطابق اوچ شریف، جو کبھی اولیائے کرام کی نگری، روحانیت، امن اور مذہبی اقدار کی پہچان سمجھا جاتا تھا، آج خطرناک حد تک منشیات کے عفریت کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ شہر اور گردونواح میں مہلک نشہ “آئس” (کرسٹل میتھ) کا کاروبار کھلے عام جاری ہے، جس نے نوجوان نسل کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق محلہ بخاری، شمیم آباد، گیلانی کالونی، بیٹ احمد رسول پور، محمد پور اور نور پور سمیت مختلف علاقوں میں منشیات فروشوں نے باقاعدہ اڈے قائم کر رکھے ہیں، جہاں سے دن رات آئس کی فروخت جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ دھندا اب خفیہ نہیں بلکہ اعلانیہ انداز میں چلایا جا رہا ہے۔تشویشناک امر یہ ہے کہ منشیات فروشوں نے جدید طریقہ واردات اختیار کرتے ہوئے “ہوم ڈلیوری سروس” بھی متعارف کرا دی ہے، جہاں ایک فون کال یا پیغام پر نشہ آور مواد گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اس بے خوفی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق آئس کے عادی نوجوان کئی کئی دن جاگتے رہتے ہیں، ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور نشے کی طلب پوری نہ ہونے پر چوری، ڈکیتی، موبائل چھیننے اور دیگر جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور رات کے اوقات میں نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔شہر کے مختلف مقامات پر نشے کے عادی افراد کو گندگی کے ڈھیروں، ویران جگہوں اور کھنڈرات میں نشہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو نہ صرف معاشرتی بگاڑ بلکہ انتظامی غفلت کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ان کے نوجوان بچے تعلیم اور روزگار چھوڑ کر نشے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ کئی گھرانوں کی جمع پونجی اس لعنت کی نذر ہو چکی ہے جبکہ ماؤں کی آہیں اور خاندانوں کی پریشانی معمول بنتی جا رہی ہے۔شہری و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف میں فوری اور مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے، منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑا جائے، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں، بصورت دیگر یہ ناسور آئندہ نسلوں کو مکمل تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔
