پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی ریاستِ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق سال 2025 کے دوران انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مجموعی طور پر 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں 2597 عسکریت پسند مارے گئے۔
منگل کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال عسکریت پسندوں کے خلاف غیر معمولی اور مسلسل کارروائیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا اور متعدد خطرات کو بروقت ناکام بنایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 5397 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 71 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں جبکہ 29 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔ ان واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1235 افراد جان سے گئے، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے یہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
گزشتہ سال 75 ہزار سے زائد آپریشنز، 2597 عسکریت پسند ہلاک,پاک فوج
