Baaghi TV

53 مقامات پر حملوں کا جواب دیا،274 افغان اہلکار ہلاک،12سپوت شہید،ترجمان پاک فوج

ispr

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیا لیکن افغان طالبان ایک ماسٹر پروکسی ہے جس نے ان کا ساتھ دیا ،آپریشن غضب للحق پر وزیر اعظم کو بریف کردیا گیا ہے، ٹی ٹی پی بین الاقوامی سطح پر دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ طالبان نے پختونخوا کے پندرہ سیکٹرز میں 53 مقامات پر حملے کیے،پاک فوج نے تمام 53 مقامات پر بروقت کارروائی کی اور ان دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، اب تک افغان رجیم کے 274 افغان اہلکار ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ 400 سے زائد زخمی ہیں۔ 73 سے زائد پوسٹیں تباہ، 115 ٹینک، آرٹلری گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں،افغان طالبان اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھی فرار ہو چکے ہیں، افغان طالبان اور خوارج ہرجگہ جان بچا کر بھاگتے رہے،لاشیں بھی اٹھا نہیں سکے،یہ کواڈ کاپٹر ، چھوٹے اور بڑے ہتھیار لیکر آئے، انکے کواڈ کاپٹر اور ہتھیاروں کو خاموش کروایا، جہاں جہاں سے یہ حملہ آیا، پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا، 12 پاکستانی فوجی شہید ہوئے 27 زخمی ہیں جبکہ ایک مسنگ ہے۔

ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں کسی سویلین ٹارگٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا ،حالیہ حملوں اور سرحد پار سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک "ماسٹر پراکسی” ہے جس کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا ہے، ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، بنیان المرصوص کی طرح گزشتہ رات بھی پوری قوم پاک افواج کیساتھ کھڑی تھی۔افغان طالبان اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے شرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، افغان طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشتگردی کی صورت میں جواب دیں گے،افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، ایبٹ آباد، نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا گیا، ہمارا گزشتہ روز آپریشن اپنے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ میں تھا، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے، پاکستان میں اگر کسی جگہ دہشت گردی، خودکش حملہ ہوا تو جواب ناصرف دہشتگردوں بلکہ ان کاتحفظ کرنےوالوں کو بھی دیا جائے گا، افغانستان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننا ہے، ہماری چوائس واضح ہے، ہم اپنی چوائس کیلئے قربانی دینے سے کبھی نہیں جھجکیں گے، پاکستان کی افواج مشرقی اور مغربی بارڈر پر ہر دم تیار ہیں، کسی کو شوق پورا کرنے ہے تو آزمالے، پاکستان کے مفادات کا تحفط ہر قیمت پر کیا جارہا ہے،افغان طالبان رجیم نے ہی دوحہ معاہدہ کیا تھا، افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا افغان طالبان نے اپنے معاہدے کی پاسداری کی؟کل رات جو ہم نے آپریشن کیا وہ اپنے حق کے تحفظ کیلئے تھا، تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو کوئی جگہ نہیں دی جاسکتی، نیشنل ایکشن پلان 2014 میں بنا تھا جسے ہم وژن عزم استحکام کہتے ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کے ہر واقعے میں بھارت ملوث ہے، افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن غضب للحق جاری ہے، دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کیلئے ہے، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمیں ان پر فخر ہے،

More posts