بدلتے عالمی اور علاقائی تناظر میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے ، محبت اور بھائی چارے کے رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف اسلامی ، تاریخی رشتوں کے حامل ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ دل اور جذبات کے اعتبار سے بھی گہرے رشتے رکھتے ہیں۔دونوں ملک ایک جسم کے دو بازو اور ایک جسم میں دھڑکنے والے دو دل کی مانند ہیں۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔انھوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کو باہم لڑانے کی بھارت کی تمام سازشیں ناکام ہوچکی ہیں ۔ بھارت صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کا ہی دشمن نہیں بلکہ اسلام ، قرآن اور رب رحمان کا بھی دشمن ہے ۔ اسلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک باہم تعلقات اور اپنا دفاع مضبوط کریں ۔ حالیہ دنوں میں بنگالی عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے پاکستان کے لیے محبت اور عقیدت کے اظہار نے ثابت کر دیا ہے کہ نظریہ پاکستان آج بھی زندہ ہے ۔ اس محبت اور عقیدت کی روشنی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات صرف سرکاری سطح تک محدود نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ایک دوسرے کے لیے عزت اور محبت موجود ہے۔ یہ محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے رشتے دونوں ممالک کے مستقبل میں تعلیمی، دفاعی اور اقتصادی تعاون کے دروازے کھولنے کا سبب بن سکتے ہیں۔دونوں ممالک کی قیادت کو چاہیے کہ وہ محبت اور بھائی چارے کے اس انمول رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرے اور عوام کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کے لیے پل باندھے۔ اس سلسلے میں تعلیم، دفاع ، کھیل اور اقتصادی شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مزید برکت ڈالے، محبت اور بھائی چارے کے رشتے کو ہمیشہ قائم رکھے اور دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں محبت کی روشنی کو روشن رکھے۔ یہ رشتہ آنے والے ہر دور میں مضبوط اور پائیدار رہے۔
