اسرائیل نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے میں زمین کے انتظام (لینڈ ریگولیشن) کا متنازع عمل شروع کرے گا، جس سے اس علاقے پر اسرائیلی کنٹرول مضبوط ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی اقدامات کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنائے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’قابض طاقت کا بین الاقوامی قانون کی مسلسل نظر انداز اور اشتعال انگیز اقدامات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں۔‘ پاکستان نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
اسرائیلی آباد کاری مخالف گروپ ’پیس ناؤ‘ نے کہا کہ یہ عمل فلسطینی زمین پر بڑے پیمانے پر قبضے کے مترادف ہے اور اسرائیل کو ایریا سی کے تقریباً تمام حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو مغربی کنارے کے 60 فیصد حصے پر محیط ہے اور مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔
پاکستان نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں زمین کے متنازع اقدامات کی شدید مذمت کی
