خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھارتی صحافیوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔ ممتاز صحافی رویش کمار نے مودی پر بھرپور انداز میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں جو کہا اس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات بھی کی۔ فنانشل ٹائمز میں خبر شائع ہوئی ہے کہ جنرل منیر نے ٹرمپ کو فون کیا اور بیچ بچاؤ کی پیشکش کی ہے۔ تو اس موڑ پر اس جنگ میں پاکستان کا کردار اچانک بڑا دکھائی دینے لگا ہے۔
اور سوال یہ ہے کہ اب تک کے حالات میں بھارت کا کیا کردار رہا ہے؟ جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار ہو اور بھارت کا نہ ہو۔ بھارت کے سفارتی ماہرین کو یہ سب کیسا لگ رہا ہوگا؟ پوری دنیا میں یہ بحث ہے کہ مغربی ایشیا کے سب سے بڑے بحران میں اچانک پاکستان کا کردار اتنا اہم کیسے ہو گیا؟ کیا پاکستان بھی امن کا پجاری بن گیا ہے؟ اب تک کی سفارتی کوششوں میں بھارت کہاں ہے اور کیوں نہیں ہے؟ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے۔
23 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے۔ تب انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ایران نے بھی مانا کہ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی مگر کسی اور کے ذریعے ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ٹرمپ اور منیر کے درمیان بات ہوئی ہے۔
کیا اسلام آباد میں آگے کوئی میٹنگ ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے بھارت کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرائن لیویٹ سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قیاس آرائیاں نہ کریں۔ اے این آئی کے سوال سے پہلے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ اسی ہفتے اسلام آباد میں جنگ ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس گفتگو میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس ملاقات میں ایرانی حکام امریکی حکام سے مل سکتے ہیں۔
اسی رپورٹ کی بنیاد پر اے این آئی نے سوال کیا ہوگا کہ کیا اسلام آباد میں کوئی میٹنگ تجویز کی گئی ہے؟ پریس سیکریٹری نے جواب تو نہیں دیا مگر ایسی کسی میٹنگ سے صاف انکار بھی نہیں کیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ اس وقت تمام حساس معاملات کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا۔ حالات بدل رہے ہیں اور کسی بھی میٹنگ کے بارے میں قیاس آرائی کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس اس کا اعلان نہ کرے۔
23 مارچ کو ٹرمپ کے بیان کے بعد ہی امریکہ کی ایک ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ اس گفتگو میں مصر، ترکی اور پاکستان کا کردار ہو سکتا ہے۔ وہ رپورٹ ذرائع کے حوالے سے تھی لیکن اب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔ فنانشل ٹائمز نے بھی پاکستان کے حوالے سے ایک تجزیہ کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ایران بحران کے معاملے میں پاکستان بطور ثالث ابھر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا یہ مضمون کافی پڑھا جا رہا ہے اور اسے پانچ صحافیوں نے مل کر لکھا ہے۔
پاکستان کو یہ کردار کیوں ملا ہوگا؟ نام تو ترکی اور مصر کا بھی آیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ ترکی کو وہ پلیٹ فارم ملے، اس لیے ممکن ہے وہ پاکستان کو آگے کر رہا ہو۔ ترکی بھی سعودی عرب کی طرح ایک بڑی سنی طاقت ہے اور سعودی عرب کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے سعودی عرب خود کو ترکی سے اوپر رکھنا چاہے گا، اسی لیے مانا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہوگا۔
ایران پر حملے کے بعد ترک صدر اردگان نے جب اپنی پارلیمنٹ میں خطاب کیا کہ شیعہ اور سنی ایک ہیں تو تالیاں بجیں۔ یوکرین جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ترکی کی جگہ اب اچانک پاکستان کا کردار بڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ اسرائیل ترکی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جس سنی محور کی بات کرتا ہے، اس میں ترکی بھی شامل ہے۔ امریکہ بھی ترکی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں ہوگا کیونکہ جب ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے میں ترکی کو شامل کرنا چاہا تو اسرائیل نے اعتراض کیا تھا۔
لیکن اس بار امریکہ نے یہ موقع پاکستان کو دے دیا ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں دکھا دیا کہ خلیج کی دونوں سنی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ ترکی کو پیچھے کر رہا ہے لیکن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان کو گفتگو میں شامل کر لیا ہے۔ اس لیے سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان سے بات کرنے کے فیصلے میں سعودی عرب نے کوئی کردار ادا کیا ہوگا؟ آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے بن گیا؟
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے ہیں۔ اس سے بات کر کے امریکہ ایران کو یہ پیغام دے رہا ہوگا کہ آپ پاکستان کو اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس کی بات ہم سے بھی ہے، وہ ہمارا بھی دوست ہے۔
کرکٹ کی زبان میں کہیں تو بھارت کا گودی میڈیا کیچ کے لیے تیار تھا مگر گیند باؤنڈری لائن کے باہر چلی گئی۔ یہاں خوب بحث ہو رہی ہے کہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی ہی جنگ رکوا سکتے ہیں۔ کیا ہندوستان جنگ رکوا پائے گا؟ تین دن پہلے انڈیا ٹی وی پر یہ سوال اٹھا۔ تباہی کے بیچ دنیا کو مودی سے امید، کیا پی ایم مودی مہا جنگ روکیں گے؟ ریپبلک بھارت کا سوال تھا۔ صرف بھارت روک سکتا ہے ایران جنگ—نیوز 18۔ ایران اسرائیل کی جنگ ختم کرا سکتا ہے بھارت—ٹی وی 9 کی سرخی۔
کس بنیاد پر بھارت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ بھارت کے پاس امن کا منتر ہے؟ امن کا منتر ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جس ملک نے حملہ کیا اس کا نام لے کر مذمت کی جائے۔ کیا بھارت ایسا کر سکا؟ فن لینڈ کے صدر نے 18 مارچ کو کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ جنگ بندی کون کرا سکتا ہے—یورپ یا بھارت۔ مگر نام پاکستان کا سامنے آ گیا۔
جب سے یہ جنگ شروع ہوئی، بھارت کے اخبارات میں کئی مضامین شائع ہوئے کہ بھارت اس جنگ کو روکنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 20 مارچ کو ناگپور میں وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان بھی میڈیا میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگیں ہو رہی ہیں اور کئی ممالک سے آواز اٹھ رہی ہے کہ صرف بھارت ہی جنگ ختم کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھارت کی فطرت اور انسانی اقدار کو جانتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں دنیا میں ہونے والی بڑی جنگوں—روس یوکرین اور ایران اسرائیل—کو روکنے میں بھارت نے کیا کردار ادا کیا؟ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ رکوا سکتا ہے تو مثالیں بھی دینی چاہئیں۔
اگر بھارت جنگ رکوا سکتا تھا تو اس نے پہل کیوں نہیں کی؟ اسے کس نے روکا؟ اگر کوئی روک رہا ہے تو پھر بھارت کیسے جنگ رکوا سکتا ہے؟
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جنگ ختم ہو گئی اور بھارت کا کوئی کردار نہیں رہتا، لیکن اس اہم مرحلے پر اگر پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے تو سوال بھارت سے ہونا چاہیے۔
بھارت اور ایران کی دوستی کا تعلق تاریخ، ثقافت اور روایات سے ہے۔ کیا اسرائیل کا دورہ کر کے بھارت نے غلطی کی؟ کیا یہ سفارتی حکمت عملی تھی یا وزیر اعظم مودی کا ذاتی فیصلہ کہ ایران جیسے پرانے دوست کو چھوڑ کر اس ملک کا دورہ کیا جائے جو ایران پر حملہ کرنے والا تھا؟
اس نئی دوستی کا کیا نتیجہ نکلا؟ امریکہ نے عالمی اسٹیج پاکستان کو دے دیا۔ اگر یہی موقع بھارت کو ملتا تو آج اسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کے قریب جا کر وزیر اعظم مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کو خود کمزور کر دیا؟ امریکہ نے بھارت کو ایک طرف کر کے پاکستان کو آگے کر دیا، اس پر بحث ہونی چاہیے۔
2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی سفارتکاری کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کیا جائے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو دہشت گرد ملک کہہ رہے ہیں، کیا بھارت اس کی مذمت کر سکتا ہے؟
بھارت نے مذمت کی اخلاقی آواز کھو دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس پاکستان کو بھارت دہشت گردی کا حامی کہتا ہے، وہی پاکستان امن عمل میں کیسے شامل ہو رہا ہے؟
امریکہ نے پاکستان کو وہ حیثیت دے دی ہے جو شاید بھارت کے تصور سے بھی زیادہ ہے، اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی اس حیثیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔
اگر بھارت نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہوتی تو شاید اسے بھی ثالثی کا کردار مل سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
پاکستان نے کم از کم ایران پر حملے کی مذمت کی، اس کی پارلیمنٹ میں تعزیت پیش کی گئی اور ایران نے اس کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے باوجود، اگرچہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، پھر بھی اس کا کردار سامنے آ رہا ہے۔
اسرائیل ایک بڑا فریق ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ آئی ڈی ایف کرے گی، یعنی امریکہ نہیں۔
بھارت کے اسرائیل سے قریبی تعلقات کے باوجود وہ ثالثی میں نظر نہیں آ رہا۔
وزیر اعظم مودی نے خلیجی ممالک کے کئی دورے کیے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، عمان اور کویت گئے اور اعلیٰ اعزازات حاصل کیے، لیکن اس جنگ میں بھارت کا کردار واضح نہیں۔
پارلیمنٹ میں مودی نے کہا کہ وہ مختلف ممالک سے بات کر رہے ہیں اور بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ بھارت جنگ رکوانے کی کوئی پہل کر رہا ہے۔
تو کیا صرف بات کرنا ہی کردار ادا کرنا ہے؟
یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن پاکستان کا ابھرتا کردار بھارت کے لیے ایک سوال بن چکا ہے۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا وزیر اعظم مودی پاکستان کے کردار کی تعریف کریں گے؟
