Baaghi TV

‎پاکستان کا محفوظ اور دوستانہ ماحول، ایران نے مذاکرات میں سراہا

iran markazi bank

‎پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں دونوں ممالک نے بعض معاملات پر پیش رفت ضرور کی، تاہم چند بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے پاکستان کے محفوظ اور دوستانہ ماحول کو سراہا، جبکہ ابتدا میں ایران مذاکرات کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں تھا، مگر چین اور روس کی کوششوں سے اسے قائل کیا گیا۔
‎ان مذاکرات میں دو بڑے مسائل پر خاص توجہ دی گئی۔ پہلا معاملہ آبنائے ہرمز کا تھا، جہاں مشترکہ کنٹرول کے حوالے سے ایران نے کچھ حد تک لچک دکھائی۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت حساس راستہ ہے۔
‎دوسرا اور زیادہ پیچیدہ معاملہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تھا، خاص طور پر وہ یورینیم افزودگی کا پلانٹ جو روس کی مدد سے چل رہا ہے۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ ایران اس پروگرام کو ختم کرے یا اسے صرف شہری توانائی کے مقاصد تک محدود رکھا جائے۔ تاہم ایران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ اسرائیل سے درپیش سیکیورٹی خدشات اور امریکا کی جانب سے ضمانتوں کی عدم موجودگی کے باعث وہ اس پروگرام سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
‎مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے اور جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ مذاکرات جاری رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان، مصر یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔
‎ایرانی حکام نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ کسی حتمی حل تک پہنچنے کے لیے متعدد مذاکراتی دور درکار ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران مستقبل میں روس کے ساتھ اپنے جوہری تعاون کو محدود یا ختم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں، مگر سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید کی کرن ابھی باقی ہے۔

More posts