وزارتِ خزانہ نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت پاکستان میں خام تیل کے ذخائر تقریباً 12 دن کے لیے جبکہ ڈیزل کے ذخائر 25 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
یہ جائزہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں لیا گیا جس میں پٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں ایندھن کی فراہمی، قیمتوں اور سپلائی چین کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک میں پٹرول کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں اور موجودہ طلب کو باآسانی پورا کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ آئندہ ہفتوں کے لیے تیل کی درآمد کے انتظامات بھی پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت جاری ہیں، جس سے سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔
اجلاس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں 48.61 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 101.18 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کے لیے ایندھن کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ متاثر نہ ہو۔
وزیرِ خزانہ نے اوگرا کو ہدایت کی کہ سپلائی چین میں شفافیت لانے کے لیے ڈیٹا رپورٹنگ اور ڈیجیٹل نظام کو مزید بہتر اور تیز کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں پی ایس او کے پٹرول پمپس کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
یہ ٹیمیں ایف آئی اے، اوگرا، پٹرولیم ڈویژن اور پی ایس او کے نمائندوں پر مشتمل ہوں گی جو اسٹاک کی درست معلومات اور بروقت ڈیٹا انٹری کو یقینی بنائیں گی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور صارفین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ملک میں تیل کے ذخائر 12 دن کیلئے کافی: ڈیزل 25 دن کے لیے کافی
