Baaghi TV

خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

عالمی کردار مضبوط، مگر بیانیہ کمزور: پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟
اشتہارات سے آگے: ریاستی ابلاغ کی اصل ذمہ داری
جب ریاست بولتی نہیں، تو دنیا اس کے بارے میں خود بولتی ہے
دنیا اس وقت ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے نہ صرف علاقائی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی حرکیات تک پھیل چکے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی نئی لہریں، اور معاشی غیر یقینی — یہ سب اب کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک مشترکہ عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور کثیرالجہتی نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک جانب ملکی سرحدوں کا مؤثر دفاع جاری ہے، تو دوسری طرف اندرونی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ خطے میں افغانستان کی صورتحال اور اس سے جڑے پیچیدہ عوامل، پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بھی ہیں اور ذمہ داری بھی۔ مزید برآں، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان ایک محتاط مگر فعال سفارتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔

یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ایک اہم سوال جنم لیتا ہے:
کیا یہ کردار دنیا تک صحیح انداز میں پہنچ رہا ہے؟ اور کیا خود پاکستان کے عوام اس سے پوری طرح آگاہ ہیں؟
بدقسمتی سے، اس کا جواب حوصلہ افزا نہیں۔
آج کے دور میں ریاستی طاقت کا ایک اہم ستون مؤثر ابلاغ بھی ہے۔ جدید دنیا میں صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، بلکہ اس کی وضاحت، تشریح اور درست تناظر میں پیشکش بھی ناگزیر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو ایک واضح خلا کا سامنا ہے۔
وزارتِ اطلاعات، جو کہ قومی بیانیے کی تشکیل اور ترسیل کا بنیادی ادارہ ہے، بظاہر اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابلاغ کا عمل محدود ہو کر رسمی بیانات اور اشتہارات تک سمٹ گیا ہے، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور دنیا دونوں کو باقاعدہ بریفنگز، مدلل مؤقف اور جامع تجزیات کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے۔

اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر صحافیوں، دانشوروں اور پالیسی ماہرین کو منظم انداز میں آگاہ کرنا، ایک مربوط بیانیہ تشکیل دینا، اور بروقت معلومات فراہم کرنا — یہ سب وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی سنجیدہ ریاست کے ابلاغی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔
حال ہی میں وزیراعظم کے متوقع خطاب کے حوالے سے جو فضا بنی، وہ اس خلا کی ایک واضح مثال تھی۔ عوام ایک جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والے پیغام کے منتظر تھے، مگر جو سامنے آیا وہ ایک رسمی بیان سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کر سکا۔ اس موقع پر نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد سازی ممکن تھی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔

یہ محض ایک موقع کا ضیاع نہیں، بلکہ ایک بڑی ابلاغی کمزوری کی علامت ہے۔
اگر ایک ریاست اپنے کردار کو خود مؤثر انداز میں بیان نہ کرے، تو یہ خلا دوسروں کے بیانیے سے پُر ہو جاتا ہے — اور اکثر یہ بیانیہ اس کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔
پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کی پالیسیز، اس کے اقدامات، اور اس کا علاقائی کردار سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سب کی اصل قوت تبھی سامنے آئے گی جب انہیں واضح، مربوط اور پُراعتماد انداز میں دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
خاموشی بعض اوقات حکمت ہوتی ہے، مگر مسلسل ابہام کمزوری بن جاتا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے ابلاغی نظام کو محض معلومات کی ترسیل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مؤثر سفارتی اور قومی طاقت کے طور پر استعمال کرے۔
کیونکہ آج کی دنیا میں صرف درست ہونا کافی نہیں ،

More posts