پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان نے عالمی کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی میڈیا اور نام نہاد گودی میڈیا میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں بعض تجزیہ کاروں اور چینلز نے نہ صرف پاکستان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ پورا ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ منسوخ کرنے کے مطالبات بھی شروع کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا، تاہم ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت برقرار رکھی جائے گی۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا جانبدارانہ اور غیر منصفانہ رویہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنا ہے، جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔پاکستان کے اچانک اور دوٹوک فیصلے نے آئی سی سی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔ عالمی کرکٹ ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے بین الاقوامی کرکٹ اور ٹورنامنٹ کے مجموعی انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئی سی سی حکام کی جانب سے پی سی بی سے اپیل کی گئی ہے کہ قابلِ قبول اور باہمی حل تلاش کیا جائے
دوسری جانب پاکستان کے فیصلے پر بھارتی میڈیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ گودی میڈیا کے اینکرز اور تجزیہ کاروں نے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور یہاں تک مطالبہ کر دیا کہ اگر پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتا تو پورا ورلڈکپ ہی منسوخ کر دیا جائے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت نواز حلقوں کو اس فیصلے کی توقع نہیں تھی، جسے انہوں نے آئی سی سی کے لیے “بڑا سرپرائز” قرار دیا ہے۔کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے آئی سی سی پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں اور غیر جانبدارانہ سلوک کرے۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے، جبکہ عالمی کرکٹ شائقین کی نظریں اب آئی سی سی اور متعلقہ بورڈز کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔
