اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ان مذاکرات کے مختلف مراحل میں دونوں فریقین کی معاونت کی۔ انہوں نے ان بات چیت کو “مشکل مگر تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات فوری حل نہیں ہوتے بلکہ وقت اور تسلسل کا تقاضا کرتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اسے ایک ذمہ دار اور مثبت میزبان قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ امر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
بعض حلقے ان مذاکرات کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایک جانب دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لانا آسان نہیں تھا، جبکہ دوسری جانب جنگ بندی کے ماحول کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم حتمی معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ مایوسی بھی پائی جاتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا ہے کہ ایسے مذاکرات کو ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ بات چیت جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کئی معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم چند اہم نکات پر اختلافات اب بھی باقی ہیں جس کی وجہ سے حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس عمل سے سفارتی سطح پر فائدہ ضرور ہوا ہے اور اس کا عالمی وقار بہتر ہوا ہے۔ تاہم اگر خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو نہایت محتاط اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ وہ اپنے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے امن کی کوششیں جاری رکھ سکے۔
اسلام آباد مذاکرات، پاکستان کا کردار برقرار مگر معاہدہ تاحال دور
