Baaghi TV

پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

پاکستانی مسلح افواج نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے ساتھ صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اسے “ڈیبیلی ٹیٹنگ پنشمنٹ” کا نام دیا ہے۔

اس کارروائی کا مقصد کالعدم تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سہولت کاری کو نشانہ بنانا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت 55 سے زائد ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ٹی ٹی اے کی پوسٹوں اور بلوچ لبریشن آرمی ے لیے پناہ گاہوں یا لانچنگ پیڈز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ “فتنہ الہندوستان” کےعناصر سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کے ہتھیار،اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ،راکٹ لانچرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر،ہلکی اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری،مین بیٹل ٹینکس ،مربوط حملوں کے لیے سوارم ڈرونزشامل ہیں،مزید بتایا گیا ہے کہ بعض منتخب مقامات پر زمینی دستے بھی پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ مبینہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق مختلف سرحدی سیکٹرز میں مرحلہ وار کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں وارسالہ سب سیکٹر،ٹی ٹی اے کی پوسٹس 5 تا 9 کو نشانہ بناہا گیا،ژوب، سمبازہ اور گھدوانہ سیکٹرز بشمول بلال پوسٹ نشانہ بنایا گیا،قلعہ سیف اللہ اور پشین سیکٹر (کلیگئی، بیانزئی اور رحیم تھانے)،لوئے بند سیکٹر (کوچی، رحیم، علا جرگہ، تور کچھ اور تروکئی تھانے)،بادینی سیکٹر (تھند، جمعہ خان اور زنجیر تھانے)،او جی جی سیکٹر (خار، سپنگئی، سرزنگل اور یونس تھانے)،چلتن رینجز، ششکہ اور خارا سیکٹر (تھانہ 1، 2 اور 3)،ریاض سیکٹر (پاستا اور سرتاشان تھانہ)،نوشکی اور گردونواح میں حمید قلعہ، ثناء اللہ آغا، شینہ خیل، انی، جانی، ترکاشی، ظلمی، سوالی، غزالی قلعہ اور اوطاق سیکٹرزکو نشانہ بنایا گیا،

حکام کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہے اور مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک کو منتشر کیا جا سکے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے مبینہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرات کو غیر مؤثر بنا کر سرحدی علاقوں میں ڈیٹرنس (بازدار قوت) بحال نہیں کر دی جاتی۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

More posts