Baaghi TV

پاکستان میں صدر کتنا طاقتور ہے تحریر اصغر علی   

  

اس بات کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کبھی پاکستان میں صدر کا عہدہ  اتنا طاقتور ہوتا کہ وہ منتخب حکومت کو با آسانی کر بھیج سکتا تھا ایسا پاکستان کی تاریخ میں پانچ مرتبہ ہو چکا ہے کہ کسی صدر نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے منتخب حکومت کو گھر بھیجا ہو ان میں دو دفعہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر نے منتخب قومی اسمبلی توڑ کر گھر بھیجا تھا لیکن اب یہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے یہاں پر یہ بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ آج کل کے پاکستانی صدور کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں صدر کا عہدہ اب برائے نام رہ گیا ہے اس آرٹیکل میں جانتے ہیں کہ کیا واقعی یہ عہدہ برائے نام رہ گیا ہے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر کو یہ اختیار دیا تھا وہ منتخب اسمبلی کو تحلیل اس صورت میں کر سکتا ہے  کہ  جب یہ صورتحال پیدا ہو جائے کہ ملک کی حکومت آئین کے مطابق چلانا ناممکن ہوجائے اور اسے عوامی مینڈیٹ کی ضرورت پڑ جائے لیکن اس کے بعد پہلے تیروی ترمیم آئی جس میں صدر کے اختیارات کو کم کر دیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے موجودہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کی گئی جس میں اس کو بالکل ختم کر دیا گیا اس کے ختم ہونے کے بعد صدر  اسمبلی ایک ہی صورت میں توڑ سکتا ہے اگر اس کو وزیراعظم ایسا کرنے کو کہے اور باضابطہ طور پر نوٹس تحریر کرکے بھیجے اسمبلیوں کے تحلیل ہونے یا کسی بہران کی صورت میں صدر وہ اقدام کر سکتا ہے جو عام طور پر منتخب وزیراعظم کرتا ہے اس کے علاوہ نومنتخب کابینہ اور وزیر اعظم سے حلف لینا بھی صدر کی ذمہ داری ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میں صدر ملک کا سردار فادر آف دی نیشن اور اتحاد کی علامت ہوتا ہے صدر ملکی فوج کا کمانڈر اینڈ چیف بھی ہوتا ہے لیکن ملک کی فوج کے سربراہ نامزد کرنے کا اختیار جو کہ تیرہویں اور اٹھارویں ترمیم سے پہلے صدر کے پاس ہوتا تھا آپ وہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاس چلا گیا ہے آج صدر پاکستان کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ پارلیمنٹ سے آنے والا کوئی بھی بل ل صدر پاکستان کے دستخط کے بنا منظور نہیں ہو سکتا ہے صدر پاکستان چاہے تو اس بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں بھیج سکتا ہے اور اس کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا حتیٰ کہ ملک کا وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو  ملک کے اندر غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی اور ملک کے باہر پاکستان کی نمائندگی بھی صدر ہی کرتا ہے صدر کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے  کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا کسی بھی ٹائم معاف کر سکتا ہے اور ان کی سزاؤں میں کمی بھی کر سکتا ہے صدر وفاقی کی تمام یونیورسٹیوں کا چانسلر بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ صوبائی یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے  صوبے کے گورنر کے پاس ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیز کے تمام منتظمین وائس چانسلر کہلاتے ہیں آج کل  پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال  ہے کہ صدارتی نظام  پارلیمانی نظام سے بہتر ہے صدارتی نظام میں تمام اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں  مگر حقیقت میں پاکستان وہ ملک ہے جس نے صدارتی نظام کو بھی آزمایا جا چکا ہے ان میں میں سرفہرست فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان جنرل محمد یحییٰ خان ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیا الحق شامل ہیں جو کہ اس نظام کو آزما چکے ہیں صدارتی نظام ناکام ہونے کے بعد  آئین میں اٹھارویں ترمیم کے تحت پارلیمانی نظام لایا گیا آج بھی پاکستان میں پارلیمانی نظام ہی رائج ہے اس نظام میں تمام اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں

Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
for more info visit his twitter 

        account @Ali_AJKPTI 

Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI

More posts