ایڈیشنل ڈی جی سائبر کرائمز، وقار الدین، نے پریس کانفرنس میں پاکستان میں سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
وقار الدین نے کہا کہ سائبر کرائمز ایک انتہائی پیچیدہ اور چیلنجنگ مسئلہ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ عوام کے ذاتی ڈیٹا اور مالی معاملات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائمز کے نئے رجحانات کے مطابق حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے تاکہ ان جرائم کو کم کیا جا سکے اور ان سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔وقار الدین نے بتایا کہ پاکستان میں برطانیہ کی موبائل سمز کا غیر قانونی طور پر استعمال سب سے زیادہ ہو رہا ہے۔ ان سمز کے ذریعے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے، جن میں فشنگ، مالی فراڈ اور دیگر سائبر جرائم شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پری ایکٹیویٹڈ برطانوی سمز آسانی سے آن لائن مارکیٹس سے آرڈر پر دستیاب ہیں، جو کہ جرائم پیشہ افراد کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرتی ہیں۔ایڈیشنل ڈی جی نے مزید کہا کہ یہ غیر قانونی سمز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی آسانی سے خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ ان کا استعمال چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن فنانشل فراڈ جیسے سنگین جرائم میں بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر کرائمز کے حوالے سے حکومت کی حکمت عملی نہ صرف جرائم کی روک تھام کے لیے بلکہ عوام کی حفاظت کے لیے بھی ضروری ہے۔
وقار الدین نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی غیر ملکی سمز کا استعمال ہو رہا ہے۔ دہشت گرد اپنے رابطوں کے لیے کسی نہ کسی ذریعے کا انتخاب کرتے ہیں، اور غیر ملکی سمز اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی اور قانون کی پاسداری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ایڈیشنل ڈی جی نے کہا کہ سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون اور جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال ضروری ہے، اور پاکستان اس معاملے میں ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے تاکہ ملکی سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔وقار الدین نے اپنے بیان میں کہا کہ سائبر کرائمز کے حوالے سے ملک کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائمز کا خاتمہ ملکی ترقی اور سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس کے لیے پوری قوم کو تعاون کی ضرورت ہے۔
ایڈیشنل ڈی جی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سائبر کرائمز کے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔
