Baaghi TV

پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

fm

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ایران سمیت مختلف علاقائی ممالک سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور فریقین پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے سے گریز کرے کیونکہ ایسے اقدامات پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں اور پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کے اس ماحول میں رابطے اور مکالمے کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔پاکستانی حکام نے ایرانی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ خلیجی ریاستوں پر کسی بھی قسم کے حملے نہ صرف تنازع کو وسیع کر سکتے ہیں بلکہ پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور آذربائیجان کے علاقے نخچیوان پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو ماہرین ایک محتاط توازن کی پالیسی قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اس بحران کو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے مضبوط سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کیلئے سفارتی سطح پر متحرک نظر آ رہا ہے۔

More posts