وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب مزید جنازے نہیں اٹھائے گا، ہر شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا حالیہ دہشت گردی میں افغان باشندوں کی ملی بھگت ثابت ہوئی، جن کی خفیہ اطلاعات پر پاکستان ایئر فورس نے افغانستان میں کامیاب اسٹرائیکس کیں۔
انہوں نے بتایا کہ 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، ان کے تربیتی کیمپ تباہ کر دیے گئے دہشت گرد بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا رہے ہیں، مگر پاکستان امن چاہتا ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا۔ افغان سرزمین سے وارداتی دہشت گردی جاری تھی، ترلائی مسجد حملہ، بنوں اور باجوڑ کے خودکش واقعات افغان ہینڈلرز کی کارستانی تھیں۔
افغان طالبان سے مذاکرات میں ضمانت نہ ملنے پر کارروائی ناگزیر تھی، اسٹرائیکس صرف دہشت گرد پناہ گاہوں پر کی گئیں وزیر نے زور دیا کہ پاکستان دفاع کا حق استعمال کرے گا، دہشت گردی ختم ہونے تک آپریشن جاری رہے گا۔
پاکستان اب جنازے نہیں اٹھائے گا، ہر شہید کا بدلہ لیا جائے گا: طارق فضل
