Baaghi TV

پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان میں مہنگائی کا طوفان

کابل: پاکستان کی جانب سے سرحدی گزرگاہوں کی عارضی بندش کے بعد افغانستان میں اشیائے خورونوش اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تاجروں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ چند ہی دنوں میں آٹا، چینی، گھی، دالیں اور سبزیوں کی قیمتیں دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی راستے خصوصاً طورخم بارڈر اور چمن بارڈر بند ہونے سے درآمدی اشیاء کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان اپنی خوراک اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کے لیے بڑی حد تک پاکستان پر انحصار کرتا ہے، اور سرحدی بندش کے باعث سپلائی چین میں خلل پیدا ہونے سے مارکیٹوں میں قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ مال نہ پہنچنے کے باعث ذخیرہ اندوزی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مصنوعی مہنگائی کو تقویت مل رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر دیہی اور سرحدی علاقوں میں جہاں پہلے ہی غربت کی شرح بلند ہے، وہاں انسانی بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

More posts