Baaghi TV

پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی

“پاکستان کا بدلتا عالمی چہرہ: پروپیگنڈے سے حقیقت تک”
“بیانیے کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی: عالمی اعتماد کی بحالی”
“اسلام آباد سے امن کا پیغام: پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار”
“دہشتگردی کے الزامات سے امن کے علمبردار تک: پاکستان کا سفر”
“عالمی منظرنامے میں پاکستان: ایک ذمہ دار ریاست کا نیا تعارف”
تجزیہ:شہزاد قریشی
گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو عالمی سطح پر جس بیانیے کا سامنا رہا، وہ زیادہ تر سکیورٹی خدشات، دہشتگردی کے الزامات اور علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتا تھا۔ خاص طور پر 9/11 کے بعد کے دور میں پاکستان کو ایک طرف “فرنٹ لائن اسٹیٹ” کے طور پر تسلیم کیا گیا، تو دوسری جانب اس پر دوہری پالیسیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ اس ماحول میں نے عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط اور منظم بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، جس میں اسے دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ پاکستان نے داخلی سطح پر دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف سمیت متعدد عالمی اداروں کی جانب سے کیا گیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری کا نقطہ نظر بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔

علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصاً میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل ذکر رہیں۔ کے تناظر میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم رہا بلکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو ایک “مسئلے کا حصہ” نہیں بلکہ “حل کا حصہ” سمجھا جانے لگا۔

آج ایک ابھرتے ہوئے سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی مذاکرات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی اب پاکستان کے حوالے سے بیانیہ یک رخی نہیں رہا بلکہ اس میں معاشی بہتری، سکیورٹی استحکام اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مثبت پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔
تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستان کا امیج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، شاید قبل از وقت ہو گا۔ عالمی سیاست میں بیانیے ہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اور پاکستان کو اب بھی معاشی استحکام، گورننس، اور علاقائی توازن جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کے عالمی امیج کو متاثر کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے “بیانیے کی جنگ” میں ایک اہم موڑ ضرور حاصل کیا ہے۔ آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن کے داعی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ اس کی مسلسل کوششوں، قربانیوں اور مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ مگر اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی کا تسلسل اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔

یہ پاکستان کے لیے یقیناً ایک اہم اور حوصلہ افزا لمحہ ہے، مگر یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا،بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جہاں کامیابی کا دارومدار مستقل کارکردگی اور دانشمندانہ فیصلوں پر ہو گا۔

More posts