Baaghi TV

پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارت میں بحث، مودی حکومت تنقید کی زد میں

‎پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں نے بھارت میں سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں اور ماہرین خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
‎بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار نے بھارت کی عالمی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کو بھارت کے لیے ایک چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
‎کچھ ماہرین کا مؤقف ہے کہ دہلی کو بھی موجودہ صورتحال میں ثالثی کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی تاکہ وہ عالمی منظرنامے میں غیر مؤثر نہ دکھائی دے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سرگرم سفارتکاری نے اسے نمایاں مقام دلایا ہے جبکہ بھارت اس موقع پر نسبتاً پس منظر میں نظر آیا۔
‎بھارت میں تنقید کا بڑا رخ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف ہے۔ تجزیہ کاروں نے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے کبھی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بات کی تھی، مگر موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے جہاں پاکستان کو سفارتی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔
‎بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کردار بھارت کی طویل المدتی حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے مودی حکومت سے خارجہ پالیسی پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔
‎ادھر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امریکا نے مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں توسیع کی جبکہ ایران کی قیادت نے بھی اس معاہدے کی منظوری دی۔
‎ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

More posts