کورہیڈ کوارٹر پشاور میں آج امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا،ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگراسٹیک ہولڈرز کےساتھ ملاقات خوشگوار رہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ سمیت 3 گھنٹے تک کور ہیڈ کوارٹرمیں رہے وزیر اعلیٰ اور کابینہ ارکان نے لنچ بھی کور ہیڈ کوارٹر میں کیا، لنچ کے دوران وزیر اعلیٰ اور محسن نقوی نے قریب بیٹھ کر گفتگو کی، وزیر اعلیٰ نے محسن نقوی سمیت دیگرشرکا سے مصافحہ بھی کیا۔
امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور کے پی کے درمیان دہشت گردی پر مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی جائے گی جبکہ غیرقانونی سم کارڈز، دھماکا خیزمواد اور بھتا خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔رواں سال پشاور میں پی ایس ایل کے میچز بھی کرائے جائیں گے۔ وزير اعلیٰ نے اجلاس میں کہا کہ صوبے اوراس کےعوام کے مفاد کی خاطر کام کروں گا، ذاتی مفاد اور سیاست کیلئے کسی کےسامنےدست سوال نہیں کروں گا۔
