ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا اور اسے واپس ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا ایجنسی فارس نیوز کے مطابق، ایل ایچ اے-7 ہیلی کاپٹر کیریئر اور امفی بیئس اسالٹ شپ یعنی یو ایس ایس ٹرپولی پر "بجلی کی رفتار والے ایرانی میزائل” سے حملہ کیا گیا۔ حملے کے بعد امریکی جہاز کو و جنوبی بحر ہند کی گہرائیوں میں واپس ہٹنا پڑا۔حملے کی درست تاریخ اور مقام کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔
واضح رہے کہ یو ایس سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ یو ایس ایس ٹرپولی، جس میں تقریباً 3,500 عملہ اور ٹرانسپورٹ و اسٹرائیک فائٹر طیارے موجود ہیں، 27 مارچ کو مشرق وسطیٰ پہنچا تھا۔اب تک امریکہ نے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کویت کے بوبیان جزیرے پر موجود امریکی افواج پر حملے کیے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ جزیرے پر قائم امریکی تنصیبات اور فوجی ساز و سامان کو نشانہ بنایا گیا۔ بوبیان جزیرہ اس وقت امریکی افواج کے زیر استعمال ہے، جو بار بار کے ایرانی حملوں کے بعد کویت کے مین لینڈ میں واقع عروفجان کیمپ سے یہاں منتقل ہو چکی ہیں۔بیان کے مطابق، حملے میں سیٹلائٹ آلات اور دیگر ہتھیار ہدف بنے۔پینٹاگون کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔یاد رہے کہ بوبیان جزیرہ کویت کے ساحلی جزائر میں سب سے بڑا جزیرہ ہے اور خلیج کی شمال مغربی سمت میں واقع ہے۔یہ واقعہ خطے میں تناؤ میں اضافے اور امریکہ-ایران کشیدگی کے نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
