Baaghi TV

بچوں کی اموات ، پمز ہسپتال کی آگ ذمہ دار کون ،تحریر:ملک عرفان اعوان

میرے مولا چمن کی خیر کرنا
وہ پھولوں کو مسلتا جا رہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزشتہ کئی سال سے پاکستان میں معصوم بچوں کے حوالہ انتہائی خوف ناک قسم کا خوف والدین کو خطرناک صورت حال جانب لے جا رہا ہے اور اس خطر ناک صورت حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ پاکستان میں معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی اور اس کے بعد انہیں قتل کر دینا معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں قتل کر دینا ، آئے روز کسی کچرے کے ڈھیر سے ایک دن کے پیدائش کے بچے کی موجودگی آخر اس گھناونے جرم میں کون شریک ہیں اور اب معصوم بچوں کی پمز ہسپتال میں آگ لگ جانے کی وجہ اموات یہ سب حادثاتی ہیں نہیں یہ سب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں خود ہراس کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ۔ ان وارداتوں کا مسٹر مائنڈ کون ہے اس دور جدید میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے پاس جدید ترین آلات بھی موجود ہیں اس کے باوجود نجانے کتنے ماہ کتنے سال ان کیسز کی جانچ پڑتال پر لگ جاتے اور اسی جانچ پڑتال کے دورانیے میں ایسے کیس کہیں دب کر رہ جاتے ہیں نہ ہی قاتلوں کو سزا دی جاتی ہے اور نہ انکوائریز پر کوئی حتمی فیصلہ دیا جاتا ہے۔ اس ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ پاکستان کی سر زمین سے بھی کہیں زیادہ لمبی ہے آخر ان ماسٹرمائنڈز کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا کیا یہ سب حکومت کی نااہلی ہے یا پھر ادروں میں بیٹھے ہوئے اداروں کے سر براہان کی۔ یہ سب ایک تماشا سا برپا ہے پاکستان میں جو آئے روز نئی شکل میں عوام کے سامنے آتا ہے مسئلہ ان حادثوں کا نہیں مسئلہ ان والدین کا ہے جو اس وقت اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے پریشان ہیں آخر یہ آزاد ملک ہے اور اس ملک میں آزادی کے نام م کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور یہ آزاد ی حکومت کی بنیادی فرائض میں ہے لیکن حکومت کی جانب سے اداروں کی باز پرسی ہی کوئی نہیں جسکی وجہ سے ہمیشہ سے ایسے حادثات ہوتے چلے آتے ہیں

ہسپتال جیسے اداروں میں بھی معصوم بچوں کی حفاظت ممکن نہ ہو سکی ان بچوں کو بچانے نے لئے والدین نے نجانے کتنے پیسے خرچ کئے ہو گے کتنی مشکلات و تکلیفات اٹھائی ہوں گی لیکن بچوں کو پھر بھی وہ بچانے میں ناکام ہوئے یہ دکھ یہ درد ان والدین سے پوچھا جائے تو معلوم ہوگا کہ درد کیا چیز ہے ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ تو کر سکتے ہیں کہ جلد از جلد پمز ہسپتال میں جل جانے والے بچوں کے والدین کو انصاف مہیا کیا جائے مگر آنے والے دنوں کے لئے ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے کوئی تجویز نہ تو ہم نہ دے سکتے اور نہ ہی حکومتی سر براہان اس بارے سوچتے ہیں ہمارا زور یہیں ختم ہو جاتا ہے کہ اس حادثے کے قصور واروں کو سزا دی جائے ایسے حادثات کی آئندہ روک تھام کے لئے حکومت کو چاہے کہ کوئی لائحہ عمل تیار کرے تاکہ آئندہ جانوں کا نقصان نہ ہو

اتنے معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاں پر ہم تو شرمندہ ہیں لیکن حکومت جو اپنے فرائض سے غافل ہے جو اپنے ماتحت اداروں کے افسران کو احسن طریقہ اور زمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دینے کی تلقین نہیں کرتی ہونا تو یہ چاہے جس سر کاری یا غیر سرکاری ادارے میں ایسا حادثہ رونما ہو اس ادارے کے سر براہ کو فوری طور پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے اور جو اس کے ماتحت افسران کو بھی جیل کی تازہ ہوا کی سیر کروائے اوپر سے لے کر نچلے طبقے تر احتساب عمل ہو تاکہ آئندہ کے لئے کوئی بھی اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کرے اور ایسے حادثات منظر عام نہ ہوں ۔
اک شعر
پتھر کا۔ خوف ایسا تھا کہ ٹوٹنے لگے
رکھے تھے جتنے پھول سجا کر گلاس میں

More posts