دنیا کے کسی بھی شہر میں، کسی بھی زبان بولنے والے گھر میں، کسی بھی شام ایک بچی اپنی ماں کے پاس آ کر یہ کہہ سکتی ہے کہ اسے کسی سے ڈر لگتا ہے۔
ممکن ہے وہ یہ نہ بتا سکے کہ کیوں
ممکن ہے اس کے پاس الفاظ نہ ہوں
ممکن ہے وہ صرف اتنا کہے کہ وہ فلاں شخص کے پاس نہیں جانا چاہتی۔
اور ممکن ہے ہم، مصروف زندگیوں میں گھرے ہوئے لوگ، اس چھوٹی سی بات کو اہمیت دیے بغیر آگے بڑھ جائیں۔
یہی وہ لمحہ ہوسکتا ہے جہاں ایک بچے کی حفاظت اور اس کی تنہائی کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ہے۔
بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کسی ایک ملک، مذہب، طبقے یا ثقافت کا مسئلہ نہیں۔
یہ انسانی معاشرے کے اس تاریک حصے کا نام ہے جہاں طاقت، اعتماد اور معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اسے محض ایک جرم نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ایک عالمی صحت کا مسئلہ قرار دیتا ہے۔
لیکن اعدادوشمار اس المیے کا صرف ایک حصہ بتاتے ہیں۔
ایک عدد یہ نہیں بتا سکتا کہ زیادتی کے بعد ایک بچی اپنے کمرے میں واپس جا کر کتنی دیر تک جاگتی رہی۔
عدد یہ نہیں بتا سکتا کہ کسی دروازے کی دستک سے اس کا دل کیوں تیز دھڑکنے لگا۔
عدد یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ جس شخص پر اس نے اعتماد کیا تھا، اس اعتماد کے ٹوٹنے کے بعد اسے پوری دنیا پر دوبارہ اعتبار کرنا سیکھنے میں کتنے برس لگے۔
جرم ایک لمحے میں ہوتا ہے۔
اس کے اثرات بعض اوقات پوری زندگی پر پھیل جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کو صرف ایک فوجداری مقدمہ سمجھنا اس کے اصل حجم کو چھوٹا کردینا ہے۔
یہ ایک بچے کے احساسِ تحفظ پر حملہ ہے۔
اس کے اعتماد پر حملہ ہے۔
اس کے اس بنیادی یقین پر حملہ ہے کہ بالغ انسان، خصوصاً وہ لوگ جنہیں وہ اپنا سمجھتا ہے، اس کی حفاظت کریں گے۔
اور شاید اس جرم کی سب سے المناک حقیقت یہی ہے کہ خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی چہرے کے ساتھ نہیں آتا۔
کبھی وہ ایک مانوس آواز میں آتا ہے۔
کبھی کسی رشتے کے نام کے ساتھ۔
کبھی ایسے شخص کی صورت میں جسے گھر والے برسوں سے جانتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بچوں کی حفاظت کی روایتی تعلیم، جو انہیں صرف "اجنبیوں سے بچنے” کا سبق دیتی ہے، کافی نہیں۔
بچے کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اختیار رکھنے والا، محبوب یا جان پہچان والا شخص بھی غلط ہوسکتا ہے۔
اور اسے اس سے بھی زیادہ ایک بات جاننے کی ضرورت ہے:
اگر کچھ غلط ہو تو وہ بتا سکتا ہے۔
یہ جملہ بظاہر بہت معمولی ہے، مگر شاید بچوں کے تحفظ کی پوری اخلاقیات اسی ایک یقین سے شروع ہوتی ہیں۔
کیا ہمارے بچے جانتے ہیں کہ وہ اپنے والدین سے ہر بات کہہ سکتے ہیں؟
کیا انہیں یقین ہے کہ ان کی بات سن کر فوراً انہیں ہی موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جائے گا؟
کیا وہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں ڈرائے، دھمکائے یا کسی راز کو چھپانے پر مجبور کرے تو اس راز کو چھپانا ان کی ذمہ داری نہیں؟
اور سب سے اہم سوال:
کیا ہم ان کی بات سننے کے لیے واقعی تیار ہیں؟
ہم اکثر بچوں سے سچ بولنے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر انہیں سچ بولنے کے لیے محفوظ ماحول نہیں دیتے۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ ہم پر اعتماد کرے، مگر جب وہ ہماری توقع کے برخلاف کوئی بات بتاتا ہے تو ہم اسے ڈانٹ دیتے ہیں۔
ہم اس کی خاموشی کو تربیت کا مسئلہ سمجھتے ہیں، اس کے خوف کو ضد، اس کے بدلتے ہوئے رویے کو بچپنا۔
حالانکہ کبھی کبھی بچے کا رویہ اس کی زبان سے پہلے بول رہا ہوتا ہے۔
یہاں والدین کا کردار صرف نگرانی کا نہیں، سماعت کا بھی ہے۔
بچے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے گھر میں ایک ایسی جگہ موجود ہے جہاں وہ خوف کے بغیر بول سکتا ہے۔
جہاں اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ "تم نے ایسا ہونے کیوں دیا؟”
بلکہ پہلے یہ پوچھا جائے گا:
تمہیں کس چیز نے ڈرایا؟
یہ فرق معمولی نہیں۔
ایک سوال بچے کو مزید خاموش کرسکتا ہے۔
دوسرا اسے دوبارہ اپنی آواز تک پہنچا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں بچوں کے خلاف تشدد کے بارے میں دستیاب شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اس کے اثرات صرف واقعے تک محدود نہیں رہتے۔ جسمانی اور ذہنی صحت، تعلیم، تعلقات اور مستقبل کی زندگی تک ان کے اثرات پہنچ سکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت مؤثر روک تھام کے لیے والدین کی معاونت، بچوں کی عمر کے مطابق تعلیم، محفوظ ماحول، مضبوط قوانین اور متاثرہ بچوں کے لیے بروقت طبی و نفسیاتی مدد کو اہم قرار دیتا ہے۔
اس لیے ہمیں صرف مجرم کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔
ہمیں اس نظام کے بارے میں بات کرنی چاہیے جو جرم سے پہلے موجود تھا اور جرم کے بعد بھی موجود رہتا ہے۔
کیا گھر میں بچے کے لیے محفوظ ماحول تھا؟
کیا اسکول میں شکایت کا قابلِ اعتماد نظام تھا؟
کیا کسی بالغ نے بچے کے رویے میں تبدیلی محسوس کی؟
کیا خاندان نے کسی مشتبہ شخص کے رویے کو "چھوٹی بات” سمجھ کر نظرانداز کیا؟
کیا جرم سامنے آنے کے بعد بچے کو تحفظ ملا یا اسے خاندان کی عزت کے نام پر خاموش کردیا گیا؟
یہ آخری سوال ہمارے معاشروں کے لیے شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
کیونکہ بعض جگہوں پر جرم سے زیادہ خوف اس بات کا ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
مگر لوگوں کی یادداشت مختصر ہوتی ہے۔
مظلوم بچے کی یادداشت نہیں۔
لوگ چند دن بات کریں گے۔
بچہ شاید برسوں اس واقعے کے ساتھ زندگی گزارے گا۔
اس لیے خاندان کی عزت کو بچے کی خاموشی سے نہیں، بچے کی حفاظت سے ناپا جانا چاہیے۔
جس معاشرے میں مظلوم سے خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے، وہ دراصل مجرم کے لیے جگہ بنا رہا ہوتا ہے۔
اور جس معاشرے میں بچہ بولنے کے بعد بھی محفوظ نہیں رہتا، وہاں رپورٹنگ کا کوئی نظام، کوئی قانون اور کوئی مذمتی بیان اپنی پوری معنویت حاصل نہیں کر سکتا۔
ریاست کا فرض بھی صرف یہ نہیں کہ جرم ہونے کے بعد مجرم کو عدالت تک پہنچا دے۔
ایک مہذب ریاست جرم سے پہلے حفاظتی نظام بناتی ہے، جرم کے بعد بچے کو تحفظ دیتی ہے، تحقیقات کو شفاف رکھتی ہے، اور انصاف کے عمل کو اس قدر حساس بناتی ہے کہ متاثرہ بچہ دوسری بار مجروح نہ ہو۔
عالمی ادارۂ صحت کی رہنما ہدایات بھی اسی اصول پر زور دیتی ہیں کہ متاثرہ بچے کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے جو اس کی حفاظت، رازداری، اختیار اور ذہنی کیفیت کا احترام کرے اور مزید صدمے کو کم سے کم کرے۔
یہاں میڈیا کی ذمہ داری بھی شروع ہوتی ہے۔
ایک بچے کے ساتھ زیادتی کی خبر محض ایک سنسنی خیز سرخی نہیں۔
وہ کسی زندہ انسان کی زندگی ہے۔
اس کی شناخت ظاہر کرنا، اس کی تصویر نشر کرنا، اس کے گھر یا علاقے کی ایسی تفصیل دینا جس سے اسے پہچانا جاسکے، یا اس کے دکھ کو تماشے میں بدل دینا—یہ صحافت نہیں۔
یہ مظلوم کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوسکتی ہے۔
بچوں کے بارے میں رپورٹنگ کے لیے اقوامِ متحدہ کے اداروں نے بھی واضح اصول وضع کیے ہیں کہ جنسی زیادتی کے شکار بچے کی شناخت اور بصری شناخت کو محفوظ رکھا جائے اور رپورٹنگ اس کے لیے مزید خطرہ، بدنامی یا نفسیاتی نقصان پیدا نہ کرے۔
ہمیں شاید اپنی زبان بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
ایسی بچی "بدنام” نہیں ہوئی۔
اس کا "کردار” خراب نہیں ہوا۔
اس نے کسی خاندان کی "عزت” نہیں لوٹی۔
اس کے ساتھ جرم ہوا ہے۔
اور جرم کی شرمندگی صرف اور صرف مجرم کے حصے میں ہونی چاہیے۔
یہ فرق اگر ہم نے سمجھ لیا تو شاید بچوں کے تحفظ کی ہماری پوری سوچ بدل جائے۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کو خوف کے ساتھ بڑا نہیں کرنا۔
ہمیں انہیں یہ نہیں سکھانا کہ دنیا خطرناک ہے اور تم کمزور ہو۔
ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ دنیا میں خطرات موجود ہیں، مگر تمہاری آواز کی قدر ہے؛ تمہاری حدود اہم ہیں؛ تمہیں "نہیں” کہنے کا حق ہے؛ اور اگر کبھی کوئی تمہارے اعتماد کو توڑنے کی کوشش کرے تو تم اکیلی نہیں ہو۔
اور یہ تعلیم صرف بیٹیوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔
بیٹے بھی اس گفتگو کا حصہ ہیں۔
انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کسی دوسرے انسان کی حدود کیا ہیں، رضامندی کیا ہے، اختیار کا غلط استعمال کیا ہوتا ہے، اور خاموشی کو رضامندی سمجھنا کیوں خطرناک ہے۔
کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف بچیوں کو خطرے سے دور رکھنے کا نام نہیں۔
یہ ایک ایسی ثقافت بنانے کا نام ہے جس میں کسی بچے کی کمزوری کسی بالغ کی طاقت نہ بن سکے۔
ہمیں اپنے بچوں کو "اچھے لوگ” اور "برے لوگ” کی سادہ کہانی سے آگے کی دنیا سمجھانی ہوگی۔
انہیں رویوں کو پہچاننا سکھانا ہوگا۔
انہیں اپنے احساسات پر اعتبار کرنا سکھانا ہوگا۔
اور انہیں یہ یقین دینا ہوگا کہ اگر کوئی بالغ انہیں کہے کہ "یہ بات کسی کو مت بتانا”، تو سب سے پہلے وہ اسی راز کے بارے میں کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کرسکتے ہیں۔
کیونکہ مجرم کا سب سے بڑا ہتھیار اکثر طاقت نہیں ہوتا۔
خاموشی ہوتی ہے۔
اور خاموشی توڑی جاسکتی ہے۔
ایک گھر میں۔
ایک اسکول میں۔
ایک عدالت میں۔
ایک اخبار کے صفحے پر۔
اور ایک ایسے معاشرے میں جو فیصلہ کرے کہ بچوں کی حفاظت کسی اخلاقی تقریر کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ہم شاید دنیا سے درندگی کو مکمل طور پر ختم نہ کرسکیں۔
لیکن ہم ایک ایسی دنیا ضرور بنا سکتے ہیں جہاں ایک بچہ بولے تو اسے سنا جائے۔
جہاں وہ روئے تو اسے شرمندہ نہ کیا جائے۔
جہاں وہ کسی شخص سے خوف کا اظہار کرے تو اس کے خوف کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
جہاں جرم چھپانے کے لیے خاندان کی عزت کو ڈھال نہ بنایا جائے۔
جہاں قانون مظلوم کو دوبارہ سزا نہ دے۔
اور جہاں صحافت کسی بچے کے زخم کو بازارِ تماشہ بنانے کے بجائے اس کی حرمت کی نگہبان بنے۔
آخرکار کسی معاشرے کی اصل تہذیب اس کے عجائب گھروں، بلند عمارتوں، یونیورسٹیوں یا دولت سے نہیں پہچانی جاتی۔
وہ اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہاں سب سے کمزور انسان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔
اور ایک بچہ، جو اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتا، شاید ہماری تہذیب کا سب سے سچا آئینہ ہے۔
اگر اس آئینے میں ہمیں اپنی صورت پسند نہیں آتی تو آئینہ توڑنے سے چہرہ نہیں بدلے گا۔
ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔
کیونکہ ایک بچی سے اس کا بچپن چھیننے والا صرف ایک درندہ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی اس جرم کے گرد کھڑی خاموشی بھی اس کا حصہ بن جاتی ہے۔
اور شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا اخلاقی سوال یہی ہے۔
جب ایک بچہ بولنے سے ڈرے، تو ہم اس کی خاموشی سننے کے لیے کتنے تیار ہیں؟
