وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم نے قربانی دی اور غریب نے مشکلات برداشت کیں، اب معیشت کی گروتھ کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کی تجاویز کو سراہتے ہیں اور مشاورت کے بعد معاشی پالیسیاں بنائی جائیں گی، جبکہ سیاسی و عسکری تعاون سے ملک کی ترقی کے راستے کھل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر کامیابیاں سمیٹیں، معرکہ حق میں فتح کے بعد پاکستان کا دنیا میں منفرد مقام بن چکا ہے، اور عالمی دوروں میں رویوں میں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایوارڈ یافتہ کاروباری افراد کو بلیو پاسپورٹ دیے جائیں گے۔
شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کیا اور کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے عالمی رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ایکسپورٹرز کو قرض پر شرح سود 4.5 فیصد کردی گئی ہے۔
وزیراعظم نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو ملکی ترقی کا محور قرار دیا، صنعتوں کو مزید سہولتیں دینے کا عزم کیا اور کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک تاجروں اور صنعتکاروں سے مل کر مضبوط فیصلے کریں۔
انہوں نے ملک میں ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی شفاف نجکاری اور اصلاحات سے اربوں کے اخراجات کم ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات اور ڈیجیٹل شعبے میں نمایاں اقدامات کیے جا رہے ہیں، پی آئی اے اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کرے گا اور فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے متعدد اہم معاملات حل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اتنا مضبوط ہوگا کہ بھارت کو بھی اس کا احساس ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دفاعی استعداد اور فوج کی کامیابیوں پرخراج تحسین
