راولپنڈی: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہیں عسکری قیادت کی جانب سے پاک-افغان سرحد کی تازہ ترین صورتحال اور قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے مبینہ گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف جاری شرپسند کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ پاکستان اس صورتحال پر "زیرو ٹالرنس” (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کی حدود میں ہونے والی کارروائیاں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے سرحدی علاقوں میں افغان رجیم کی جانب سے حملوں کو کامیابی سے پسپا کرنے پر پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج سرحدوں کے تقدس کو برقرار رکھنے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں۔ وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیرِ قیادت افواجِ پاکستان ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ "پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور ارضِ وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
پاکستان کا جارحیت کا بھرپور جواب :وزیراعظم شہباز شریف کا جی ایچ کیو کا دورہ
