وفاقی بجٹ 2026-27 کے معاملے پر حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔ حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی بجٹ ٹیم نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وفاقی بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بجٹ سے متعلق متعدد تحفظات سامنے آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ بجٹ ان تجاویز اور مسودے سے مختلف ہے جو پہلے پیپلز پارٹی کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔
ان تحفظات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں آج ہونے والا اپنا خطاب مؤخر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق وہ وفاقی حکومت سے وضاحت حاصل کرنے کے بعد ہی ایوان میں اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ بجٹ کے بعض نکات پر اتحادی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کے باعث موجودہ صورت حال پیدا ہوئی۔ پارٹی قیادت اب حکومت کے ساتھ براہ راست رابطہ کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گی اور بجٹ سے متعلق وضاحت طلب کرے گی۔
دوسری جانب وفاقی بجٹ کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔ پاکستان کسان اتحاد پہلے ہی بجٹ کو مسترد کر چکا ہے اور حکومت کو 30 جون تک کھاد اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کا الٹی میٹم دے چکا ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کسانوں اور زرعی شعبے کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ ان کے مطابق زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے اور اس شعبے کو نظر انداز کرنا معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے تحفظات حکومتی اتحاد کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتے ہیں، تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان جاری مشاورت سے معاملات حل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت اور اتحادی جماعت کے درمیان ہونے والے رابطے بجٹ کی سیاسی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے تحفظات، بلاول بھٹو نے خطاب مؤخر کر دیا
