خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبر کی حساس وادیٔ تیراہ میں ایک مرتبہ پھر کلیئرنس آپریشن کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، جہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ مجوزہ کلیئرنس آپریشن کا مقصد وادیٔ تیراہ کو دہشتگرد عناصر، منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حالات کے پیش نظر وادیٔ تیراہ میں امن و استحکام کی بحالی اب ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے مرحلہ وار اور جامع حکمت عملی کے تحت کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ آپریشن سے قبل علاقے کو مکمل طور پر آبادی سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے مقامی آبادی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 10 جنوری تک وادیٔ تیراہ کو مکمل طور پر خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
متاثرہ افراد کے لیے حکومت نے مالی معاونت اور معاوضے کے جامع پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والی ہر فیملی کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد دی جائے گی، جبکہ گھروں کے نقصان کی صورت میں 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اپریل تک ہر متاثرہ خاندان کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس سلسلے میں وادیٔ تیراہ میں سیکیورٹی اداروں اور قبائلی مشران پر مشتمل 24 رکنی جرگے کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جرگے نے کلیئرنس آپریشن اور 10 جنوری سے نقل مکانی کے فیصلے پر اتفاق کیا ہے۔ قبائلی مشران نے حکومت کے اقدامات کو علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ریاست وادیٔ تیراہ میں دیرپا امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں، مقررہ تاریخ تک نقل مکانی یقینی بنائیں اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔
