وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا (Kadir Özkaya ) کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی.
ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کےبرادرانہ تعلقات تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں. شہریوں کی انصاف تک رسائی کے حصول کیلئے پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں. ترکیہ کی وفد کے حالیہ دورے کے دوران اسی سلسلے میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس منزل کی طرف پہلا قدم ہے. انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلہ کی وسیع استعداد موجود ہے.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی ، انسداد دہشتگری ، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں قوانین اور انکے نفاذ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں.ترکیہ آئینی عدالت کے صدر نے پاکستان میں شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا. قادراوزقایا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت ہر ترک کی رگوں میں بسی ہے. ترکیہ کی آئینی عدالت 64 سال پرانی ہے اور اپنے اس وسیع تجربے کے تبادلے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہے. ملاقات میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے فاضل جج صاحبان جناب رضوان گیولیچ (Rıdvan Guleç) اور جناب رجائی آق یل (Recai Akyel) کے علاوہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر جناب عرفان نظیر اولو بھی شریک ہوئے. نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔
