گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ احتجاج، دھرنوں اور سڑکیں بند کرنے سے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا علاج ممکن نہیں۔
جیو پاکستان پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں میں محدود تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں اور مختلف مقامات پر صرف 20 سے 25 افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شامل افراد کی تعداد ایک قیدیوں کی وین کے برابر بھی نہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کا معاملہ سنجیدہ ہے، تاہم اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق صوبہ اس وقت سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی کابینہ احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی مشینری مظاہرین کی پشت پناہی کر رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور خود کہہ چکے ہیں کہ وہ ماضی میں محسن نقوی کے اچھے تعلقات میں رہے ہیں۔
احتجاج اور دھرنوں سے عمران خان کا علاج نہیں ہوگا، گورنر خیبرپختونخوا
