واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کانگریس میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جہاں متعدد ڈیموکریٹ اراکین، خصوصاً مسلمان قانون سازوں نے احتجاج کیا جبکہ صدر نے ناقدین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
خطاب کے دوران رکن کانگریس ال گرین نے صدر کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور کہا کہ وہ اس لیے اجلاس میں شریک ہوئے تاکہ صدر کے سامنے “سچ” بیان کر سکیں۔ تقریر کے دوران انہوں نے بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر سارجنٹ ایٹ آرمز نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں ایوان سے باہر نکال دیا۔
اسی دوران مسلمان اراکین کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب نے بھی صدر کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ صدر ٹرمپ نے الہان عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خطاب کے دوران کھڑا نہ ہونے پر شرم آنی چاہیے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ شرمندہ ہونے کی ضرورت صدر کو ہے۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے اراکین کو “پاگل” قرار دیا اور ڈیموکریٹ اراکین کے رویے کو شرمناک کہا۔ انہوں نے غیرقانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ارکان کی ذمہ داری امریکی شہریوں کا تحفظ ہے، نہ کہ غیرقانونی تارکین وطن کی حمایت۔
صدر نے “سیو امریکا ایکٹ” کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور انہیں امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خطاب کے دوران متعدد ڈیموکریٹ اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے جبکہ ریپبلکن ارکان نے صدر کی حمایت میں ردعمل دیا۔
ٹرمپ کے خطاب کے دوران کانگریس میں احتجاج، مسلمان اراکین سے سخت جملوں کا تبادلہ
