Baaghi TV

پی ٹی آئی کا جلسے کے مقام پر یوٹرن، باغِ جناح میں ہی جلسہ کرنے کا فیصلہ

pti

کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کے مقام سے متعلق صورتحال میں اتار چڑھاؤ کے بعد بالآخر پارٹی نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت اپنا جلسہ باغِ جناح گراؤنڈ میں ہی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس سے قبل این او سی کے اجرا میں تاخیر اور حکومتی رویے پر تحفظات کے باعث پی ٹی آئی قیادت نے مزارِ قائد کے گیٹ پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعدازاں سندھ حکومت کی واضح وارننگ اور باضابطہ اجازت نامہ جاری ہونے کے بعد پارٹی نے فیصلہ تبدیل کرلیا۔اس سے پہلے پی ٹی آئی کے رہنما راجہ اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے انہیں باضابطہ طور پر کوئی این او سی موصول نہیں ہوا، اگرچہ میڈیا پر ایک خط گردش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لیٹر درست بھی ہے تو اب انتظامات کے لیے وقت ناکافی ہے۔ راجہ اظہر نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت نے دو روز تک پی ٹی آئی کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا، جس کے باعث پارٹی نے مزارِ قائد کے گیٹ پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

مزارِ قائد کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجہ اظہر نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے باغِ جناح میں جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہاں سے کرسیاں اور دیگر سامان واپس اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ جلسہ مزارِ قائد کے گیٹ پر ہوگا۔ تاہم اسی دوران سندھ حکومت نے باغِ جناح میں جلسے کی باضابطہ اجازت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور سڑک پر کسی بھی قسم کے جلسے پر سخت کارروائی کی وارننگ دی۔نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے کراچی میں اپنا جلسہ باغِ جناح میں ہی منعقد کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی کے ابتدائی مؤقف پر سخت ردِعمل سامنے آیا۔ سندھ کے وزیرداخلہ ضیاء لنجار نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کسی بھی سڑک پر جلسہ کیا گیا تو حکومت سخت ایکشن لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب تک پی ٹی آئی سے تعاون کر رہی ہے، تاہم حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے بھی پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو باغِ جناح میں جلسے کی مکمل اجازت ہے اور جلسہ وہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سڑک پر جلسہ کرنے کی بات کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں اور اس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ باغِ جناح کا مطالبہ خود پی ٹی آئی نے کیا تھا، تاہم چونکہ یہ جگہ وفاق کے زیر انتظام ہے اس لیے اجازت نامے کے اجرا میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت جلسے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔

ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب این او سی جاری ہوچکا ہے تو پی ٹی آئی کو گراؤنڈ میں ہی جلسہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزارِ قائد کا تقدس پامال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور سڑک پر جلسے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ شرجیل میمن نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت جلسے کے لیے انتظامات بھی کر سکتی ہے اور گراؤنڈ بھرنے کے لیے افراد بھی فراہم کر دے گی، مگر قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

شرجیل انعام میمن نے قبل ازیں باغِ جناح میں جلسے کی اجازت دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جلسے کے دوران قانون و امن کی مکمل ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔ اجازت نامے کے مطابق کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز، فرقہ وارانہ یا ریاستِ پاکستان اور اداروں کے خلاف تقاریر کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا منتظمین کی ذمہ داری ہوگی اور پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا لازم ہوگا، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اجازت منسوخ کرنے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہوگا۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کو کراچی کے باغِ جناح گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت 26 نکات پر مشتمل شرائط کے ساتھ دی گئی ہے، جو پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری ارسلان خالد کے نام جاری کی گئی۔ شرائط کے مطابق کوئی بھی مقرر نظریۂ پاکستان یا ریاستی پالیسی کے خلاف تقریر نہیں کرے گا، افواجِ پاکستان یا کسی برادری کے خلاف نفرت انگیز گفتگو اور انتہا پسندی پر مبنی تقاریر پر مکمل پابندی ہوگی۔این او سی میں یہ بھی درج ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ پنڈال کی مکمل چیکنگ کے بعد اسے منتظمین کے حوالے کرے گا۔ جلسے کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ تقریب کے آغاز سے اختتام تک کی جائے گی، جس کی سی ڈی اگلے روز متعلقہ اداروں کو جمع کرانا آرگنائزر کی ذمہ داری ہوگی۔ اجازت نامے کے مطابق جلسے کا وقت شام 8 بجے سے رات 12 بجے تک مقرر کیا گیا ہے اور اس دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔انتظامیہ کے مطابق ان تمام شرائط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جلسہ پُرامن ماحول میں مکمل ہو، کسی قسم کا امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو اور عوامی نظم و ضبط متاثر نہ ہو۔

More posts