اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی علامت ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جب بتایا گیا کہ سی ایم کے پی پنجاب اسمبلی میں آنا چاہتے ہیں تو خوشی ہوئی لیکن آپ ایسے لوگوں کو لے کر ایوان میں آئے جن کے ہمارے پاس نام بھی نہیں تھے، جب ان کے نام لسٹوں میں چیک کیے گئے تو انہوں نے دھکے دینا شروع کر دیے،پنجاب اسمبلی کا ہر فعل قانون کے تابع ہے،اسمبلی میں آنے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت یا کم از کم شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے، سیکیورٹی کے معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے،مجھے کسی نے پنجاب اسمبلی کا واقعہ پوچھا تو میں نے کہا جن لوگوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تعظیم کی فکر نہیں ہے۔ وہاں جب اتھارٹیز نے تفتیش کی تو وہاں ہلڑ بازی کرنے والے وہ لوگ تھے جس پارٹی سے سہیل آفریدی ہیں،پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے مطابق پہلا قانون اسمبلی کے گیٹ پر توڑا گیا، جب وہ ایسے افراد کو لے کر آئے جن کا نام فہرست میں نہیں تھا اور جن کے پاس شناختی کارڈ بھی موجود نہیں تھا۔جس نے جو بھی غلط کام کیا ہے اس کے خلاف انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کارروائی ہو گی،خیبرپختونخوا سے آئے لوگوں نے ذہنی پستی کا اظہار کیا، پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا کرے گی،وزیراعلیٰ پنجاب کی توہین قابل مذمت ہے،سہیل آفریدی باہر سے لوگ پنجاب اسمبلی لائے جن کے نام فہرست میں بھی شامل نہیں تھے،رپورٹ قانون نافذکرنے والے اداروں کو بھیج رہا، جو پنجاب اسمبلی دنگا فساد کی انکوائری کریں گے،آپ غنڈہ گردی سے باز نہیں آتے اور پھر چیختے چلاتے بھی ہیں،
